سلامتی کونسل کی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی مذمت، ذمے داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ

12:064/02/2026, بدھ
جنرل4/02/2026, بدھ
ویب ڈیسک
کوئٹہ میں ایک مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے جلائی گئی گاڑیاں
کوئٹہ میں ایک مقام پر دہشت گردوں کی جانب سے جلائی گئی گاڑیاں

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بلوچستان میں گزشتہ ہفتے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرات میں سے ایک ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔

سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ 'دہشت گردی کی ان مذموم کارروائیوں کے ذمے داران، منتظمین، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے اور انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔'

بیان میں دیگر رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت پاکستان کی حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام اقدامات مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہیں خواہ ان کے محرکات کچھ بھی ہوں اور کہیں بھی کسی کی جانب سے بھی انجام دیے جائیں۔

سلامتی کونسل کے مطابق 'تمام ریاستوں کو ہر ممکن طریقے سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے دیگر تقاضوں کے مطابق دہشت گردی سے پیدا ہونے والے امن و سلامتی کے خطرات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

بلوچستان میں 31 جنوری 2026 کو دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر منظم حملے کیے تھے جن میں 48 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ان دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پاکستان نے جوابی کارروائیوں میں 177 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

##پاکستان
##اقوامِ متحدہ
##بلوچستان حملے