
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ 'ہم مذاکرات چاہتے ہیں لیکن جنگ کے لیے بھی تیار ہیں۔'
پیر کو تہران میں غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ کے دوران عباس عراقچی نے کہا کہ حالات اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں نے امریکی صدر ٹرمپ کو مداخلت کا جواز فراہم کیا ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکی سے مظاہروں نے پرتشدد رنگ اختیار کیا اور 'دہشت گردوں' کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا کر غیر ملکی مداخلت کا راستہ ہموار کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں اور مذاکرات کے لیے بھی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران نے مذاکرات کی پیش کش کی ہے جس پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس سے قبل بھی کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ مظاہروں کو غیر ملکی عناصر نے ہوا دی۔ ایران کے پاس مظاہرین کو ہتھیار بانٹنے کی فوٹیج موجود ہے۔ ان کے بقول حراست میں لیے گئے افراد کے اعترافی بیانات بھی جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ حکومت صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سیکیورٹی فورسز ذمے داروں کو جلد پکڑ لیں گی۔
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش سے متعلق وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ملک میں انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی اور حکومت اس معاملے پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت خانوں اور وزارتوں میں بھی مواصلاتی ذرائع بحال ہو جائیں گے۔






