ترکیہ اور پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کی مغربی کنارے سے متعلق اسرائیلی اقدامات کی مخالفت

15:279/02/2026, Pazartesi
جنرل9/02/2026, Pazartesi
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

ترکیہ اور پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کی مخالفت اور مذمت کی ہے۔

پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے پیر کو ایک مشترکہ بیان جاری گیا گیا ہے۔

بیان میں 'اسرائیل کے ان غیر قانونی فیصلوں اور اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا، یہودی بستیوں کی آبادکاریوں کو فروغ دینا اور ایک نئی قانونی و انتظامی حقیقت نافذ کرنا ہے جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام کی بے دخلی اور مقبوضہ علاقوں کے غیر قانونی الحاق کی کوششوں میں تیزی آ رہی ہے۔'

وزرائے خارجہ نے اس بات کی توثیق کی کہ اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری توسیع پسندانہ پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جو 'خطے میں تشدد اور تنازع کو ہوا دے رہے ہیں۔'

واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے کئی ایسے اقدامات کی منظوری دی ہے جس سے اسرائیلی آبادکاروں کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین خریدنا آسان ہو گیا ہے جب کہ اسرائیلی حکام کو فلسطینیوں پر مزید اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔اسرائیلی میڈیا نے وزرا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ اقدامات سے دہائیوں پرانے ان قوانین کو غیر مؤثر کر دیا گیا ہے جو عام یہودیوں کو مغربی کنارے میں زمینیں خریدنے سے باز رکھتے تھے۔

بیان میں اسرائیل کے 'غیر قانونی اقدامات' کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ 'اسرائیلی اقدامات دو ریاستی حل کو نقصان پہنچاتے ہیں اور فلسطینی عوام کے اس ناقابلِ تنسیخ حق پر حملہ ہیں جس کے تحت وہ چار جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مقبوضہ القدس کو اپنا دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست قائم کر سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات خطے میں امن اور استحکام کے لیے جاری کوششوں کو بھی کمزور کرتے ہیں۔'

بیان میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں یہ قرار دیا گیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیاں اور طرزِ عمل غیر قانونی ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور مقبوضہ فلسطینی زمینوں کے الحاق کو باطل قرار دیا گیا ہے۔

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی اور اس کے حکام کے اشتعال انگیز بیانات کو فوری طور پر روکنے پر مجبور کرے۔

بیان میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاستی حیثیت کے جائز حقوق کی تکمیل خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کا واحد راستہ ہے جو سب کے لیے سلامتی اور استحکام کو یقینی بناتا ہے۔

##پاکستان
##ترکیہ
##مغربی کنارہ
##اسرائیل