پاکستان میں گزشتہ برس ہونے والے دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے: ڈی جی آئی ایس پی آر

14:106/01/2026, الثلاثاء
جنرل6/01/2026, الثلاثاء
ویب ڈیسک
ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان پوری دنیا میں دہشت گردوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے 10 بڑے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔

منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان میں پیش آںے والے دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار پیش کیے اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پچھلے سال فوج نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے۔ ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 75 ہزار آپریشنز کیے گئے اور دہشت گردی کے 5400 واقعات ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 2025 میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں 2597 دہشت گرد ہلاک ہوئے جب کہ 1235 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی)' اور 'فتنہ ہندوستان (بلوچ عسکریت پسند تنظیموں)' کا گڑھ افغانستان میں ہے۔ ان کے بقول تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں اور وہاں ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان میں گذشتہ برس ہونے والے بڑے دہشت گرد حملوں سے متعلق کہا کہ 10 بڑے دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہری شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'وہاں پوری دنیا سے دہشت گردوں کے لیے آماج گاہ بن چکی ہے۔ القائدہ، داعش وہاں ہیں، بلوچ لبریشن آرمی بھی وہیں ہے۔ شام سے بھی ڈھائی ہزار غیر ملکی دہشت گرد افغانستان پہنچے ہیں جو وہاں لڑ رہے تھے۔'

انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان اپنے باپ کی ہدایت پر ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور ان سب دہشت گرد تنظیموں کا باپ افغان طالبان ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کرتی ہے۔ افغان طالبان جنگی معیشت کو چلانے کے لیے دہشت گردی کو اسپانسر کرتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی انڈیا کی سرپرستی میں ہوتی ہے۔

ڈرونز کا استعمال

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایک بیانیہ یہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج حملوں کے لیے ڈرونز استعمال کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نہیں بلکہ دہشت گرد مسلح کواڈ کاپٹرز استعمال کر رہے ہیں جو انہیں ان کا سرپرستِ اعلیٰ انڈیا فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خارجی ڈرونز کے ذریعے حملے کرتے ہیں اور مساجد، عوامی جگہوں اور گھروں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ ڈرونز کے لیے خوارجیوں کا ایک خاص ونگ بھی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی فوج صرف نگرانی کے لیے ڈرونز استعمال کرتی ہے اور کواڈ کاپٹرز کے ذریعے حملے صرف ان علاقوں میں کیے جاتے ہیں جہاں کوئی آبادی نہ ہو۔

'اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھنا ہے؟'

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا دہشت گردی کے 80 فی صد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں دہشت گردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے کئی وزرا کے کئی ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں صوبے کے وزیر اعلیٰ سمیت متعدد وزرا مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہیں۔ اور صوبے کی حکومت کہتی ہے کہ ہم وہاں آپریشنز نہیں ہونے دیں گے تو کیا یہ لوگ سوات جیسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں دہشت گردوں نے ہزاروں افراد کو مار دیا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کرنا کیا ہے؟ کیا دہشت گردوں کے قدموں میں بیٹھنا ہے؟ کیا خارجی نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ لگا دیا جائے، اس کی بیعت کر لی جائے، یا ہبت اللہ (افغان طالبان کے رہنما) بتائیں گے کہ چارسدہ میں کیا ہوگا؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، کابل ہماری سیکیورٹی گارنٹی کرے۔ یہ کون سی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے بھیک مانگ رہے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے۔

ترجمان پاک فوج کے بقول ان لوگوں کے پاس وہی پرانا سیاسی بیانیہ ہے، اگر ان سے کوئی دو سے تین سوال کر لے تو ان کے پاس جواب نہیں ہوتا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے، اپنے سہولت کار کے لیے، پتہ نہیں کس کی سہولت کاری کے لیے، اپنے صوبے کو، اپنے علاقے کو دہشت گردوں کے حوالے کر دیں۔'

##پاکستان
##پاکستان فوج
##ڈی جی آئی ایس پی آر