
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی میں ایک امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا ہے جس میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دھماکہ نمازِ جمعہ کے وقت ہوا جب نمازیوں کی بڑی تعداد امام بارگاہ میں موجود تھی۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکے میں 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکے کے مقام کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا نے پولیس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ دھماکہ خود کش تھا اور کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیا گیا ہے۔ حملہ آور کو گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
یہ حملہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد میں موجود ہیں۔

دھماکے کے بعد اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ زخمیوں کو انہی اسپتالوں میں لایا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی مذمت، تحقیقات کا حکم
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے دوران واقعے کی مکمل تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داران کا تعین کر کے اُنھیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
یاد رہے کہ اسلام آباد میں تقریباً تین ماہ قبل سیکٹر جی الیون کے علاقے میں سیشن اینڈ ڈسٹرکٹ کورٹس کے باہر دھماکہ ہوا تھا جس میں 12 افراد ہلاک اور 30 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔






