بلوچستان میں مارے گئے دہشت گردوں کی تعداد 177 تک پہنچ گئی، افغان شہری بھی شامل

11:412/02/2026, Pazartesi
جنرل2/02/2026, Pazartesi
ویب ڈیسک
کوئٹہ میں ایک مقام پر حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئے
کوئٹہ میں ایک مقام پر حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ کا جائزہ لیتے ہوئے

بلوچستان میں ہفتے کو کئی شہروں میں منظم دہشت گرد حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں جن میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس میں سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پیر کو مزید کئی دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد مارے گئے دہشت گردوں کی کل تعداد 177 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب دہشت گردوں کے حملوں میں 33 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہفتے کو بلوچستان کے کئی شہروں میں دہشت گردوں نے سرکاری و نجی املاک پر منظم حملے کیے تھے جن میں 18 شہری اور 15 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان حملوں کے بعد سیکیورٹی فورسز کے آپریشن اور جوابی کارروائیوں میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے اتوار کو کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی سے 'فتنہ الہندوستان' (بلوچ لبریشن آرمی) کے 145 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کئی دہائیوں میں صرف دو دن میں مارے گئے دہشت گردوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ '145 دہشت گردوں کی لاشیں ہماری تحویل میں ہیں اور ان میں کچھ افغان شہری بھی شامل ہیں۔' وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 'انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد' لوگوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے لیکن وہ مرکزی علاقوں تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

پیر کو مقامی میڈیا نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جس کے بعد صوبے میں پچھلے تین روز میں ہلاک کیے گئے دہشت گردوں کی تعداد 177 تک جا پہنچی ہے۔

'یہ کوئٹہ کی تاریخ کا سب سے خوف ناک دن تھا'

دہشت گردوں کے منظم اور بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد کوئٹہ کے بہت سے رہائشی خوف اور بے چینی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی خان محمد نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے گفتگو میں کہا کہ 'یہ کوئٹہ کی تاریخ کا سب سے خوف ناک دن تھا۔ سیکیورٹی فورسز کے آنے سے پہلے مسلح افراد سڑکوں پر دندناتے پھر رہے تھے۔'

سرفراز بگٹی بلوچستان میں ہونے والے حملوں کے پیچھے انڈیا اور افغانستان کے ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے رہنما افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ افغانستان اور انڈیا دونوں ان الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

اتوار کو وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف حملوں کی آماج گاہ نہیں بننے دیں گے۔ لیکن 'بدقسمتی سے افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔'

سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں نے گوادر میں ایک بلوچ مزدور کے گھر پر دھاوا بول کر پانچ خواتین اور تین بچوں کو ہلاک کر دیا۔ انہوں نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کا منصوبہ تھا کہ وہ کوئٹہ کے ریڈ زون میں سرکاری دفاتر پر حملہ کر کے لوگوں کو یرغمال بنائیں مگر یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

وزیرِ اعلیٰ کے بقول 'ہم ان کے منصوبے سے آگاہ تھے اور ہماری فورسز تیار تھیں۔'

##بلوچستان
##حملے
##دہشت گرد