اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کے لیے ایک سخت نگرانی والا کیمپ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے: ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل کا انکشاف

13:3628/01/2026, Çarşamba
جنرل28/01/2026, Çarşamba
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسرائیلی فوج کے ایک بااثر ریٹائرڈ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے جنوبی علاقے میں ایک بڑے رقبے پر فلسطینیوں کے لیے کیمپ بنانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ امکان ہے کہ اس کیمپ کے داخلی و خارجی راستوں پر چہرے پہچاننے والی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے آلات نصب کیے جائیں گے۔

یہ انکشاف اسرائیلی فوج کے سابق بریگیڈیر جنرل عامر اویوی نے منگل کو رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ یہ سابق جنرل اسرائیلی فوج کے مشیر بھی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق انٹرویو میں بریگیڈیئر جنرل (ر) عامر اویوی نے بتایا کہ کیمپ رفح کے علاقے میں قائم کیا جائے گا جسے حماس کی قائم کردہ تمام سرنگوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپ کے داخلی و خارجی راستے اسرائیلی اہلکاروں کی نگرانی میں ہوں گے۔

عامر اویوی ایک بااثر سابق جنرل ہیں جو اسرائیلی فوج کے ہزاروں ریزرو فوجیوں کے نمائندہ 'اسرائیل ڈیفینس اینڈ سیکیورٹی فورم' کے بانی ہیں۔ تاہم ان کا یہ بیان اسرائیلی فوج کا باضابطہ بیان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسرائیلی فوج نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جب کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے بھی رفح میں کیمپ قائم کرنے کے معاملے پر رائے کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

عامر اویوی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل مصر اور غزہ کی سرحدی گزرگاہ رفح بارڈر کو محدود پیمانے پر کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔ رفح بارڈر کھولنے کی شرط امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کا حصہ ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسے ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیل یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ غزہ چھوڑ کرنے جانے والوں کی تعداد غزہ میں آنے والے فلسطینیوں سے زیادہ ہو۔ اسرائیلی حکام اگرچہ بزور طاقت آبادی کو منتقل کرنے کو مسترد کرتے ہیں لیکن وہ متعدد مرتبہ فلسطینیوں کو غزہ سے نقل مکانی کے مشورے دیتے رہے ہیں۔

عامر اویوی کے مطابق رفح کے علاقے کو غزہ کے رہائشیوں سے تقریباً خالی کرا لیا گیا ہے۔ وہاں اب غزہ کا کوئی شہری موجود نہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے علاقہ مکمل طور پر اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

اویوی کے بقول 'آپ کو رفح میں ایسا انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے جو انہیں (فلسطینیوں کو) رکھ سکے۔ اور وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ وہاں جانا چاہیں گے یا نہیں۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ اسٹرکچر ممکنہ طور پر ایک بڑا اور منظم کیمپ ہوگا جس میں لاکھوں افراد کی گنجائش ہوگی۔ اس میں داخل ہونے والوں کی شناخت اور چہروں کی شناخت ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے میڈیا کو بتایا تھا کہ انہوں نے غزہ کی آبادی کے لیے رفح میں ایک کیمپ بنانے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم اس کے بعد سے کسی اسرائیلی حکام نے اس کیمپ سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔

غزہ کے میڈیا آفس کے سربراہ اسماعیل الثوبتہ نے رائٹرز کو دیے گئے اپنے بیان میں کیمپ بنانے کے اس خیال کو فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کو چھپانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اویوی کا کہنا تھا کہ اگر حماس ہتھیار ڈالنے سے انکار کے مؤقف پر قائم رہتی ہے تو اسرائیلی فوج غزہ پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس صورت میں غزہ سٹی پر حملے کیے جائیں گے اور ممکن ہے کہ وہاں مقیم آبادی کو اس کیمپ کی طرف منتقل کیا جائے۔

##اسرائیل
##غزہ
##فلسطینی