صومالیہ کا تاریخی اقدام: اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیے

11:0213/01/2026, منگل
جنرل13/01/2026, منگل
ویب ڈیسک
صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیے ہیں جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اتحادی ہے اور خطے کو انتشار کی طرف دھکیل رہا ہے۔
صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیے ہیں جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اتحادی ہے اور خطے کو انتشار کی طرف دھکیل رہا ہے۔

صومالیہ نے اسرائیل کے ساتھ تعاون جاری رکھنے والے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تمام معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل نے صومالیہ کے علاقے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کیا ہے۔ صومالیہ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے 'ملک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کو کمزور کرتے ہیں۔' موغادیشو حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کا یہ فیصلہ 'رپورٹس اور منفی اقدامات کے مضبوط شواہد پر مبنی' ہے۔

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے اور متحدہ عرب امارات کی یمن میں سدرن یمن ٹرانزیشنل کونسل کی حمایت سے 'ہارن آف افریقہ' اور اس کے ارد گرد کے خطوں میں عدم استحکام گہرا ہوا ہے۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک خفیہ تعاون جاری ہے جو سرکاری طور پر تو تسلیم نہیں کیا جاتا مگر زمینی حقائق اس کی نشان دہی کرتے ہیں۔

نیتن یاہو اور النہیان انتظامیہ انتشار کے ذریعے اس شراکت داری کو توسیع دے رہے ہیں۔

صومالیہ کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدوں کی منسوخی

صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ حالیہ تنازع کے بعد تمام معاہدے منسوخ کر کے ایک تاریخی اقدام کیا ہے۔

صومالیہ کی کونسل آف منسٹرز نے پیر کو تمام معاہدوں کی منسوخی کا اعلان کیا۔

'قومی اتحاد، علاقائی سالمیت اور آئینی نظام پر زور'

صومالیہ کی کونسل آف منسٹرز نے اپنے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ملک کی خود مختاری کے تحفظ کے لیے یہ اقدام اٹھانے کا اعلان کیا۔ کونسل کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ قومی اتحاد، علاقائی سالمیت اور آئینی نظام کے دفاع کے لیے کیا گیا ہے۔

حالیہ پیش رفتوں کا جامع جائزہ لینے کے بعد فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت، اس کے ذیلی اداروں اور صومالیہ کی تمام وفاقی رکن ریاستوں کے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدے منسوخ اور ختم تصور ہوں گے۔

'یہ فیصلہ ہماری سیاسی آزادی کو کمزور کرنے کے مضبوط شواہد پر مبنی ہے'

اس فیصلے کے تحت ہر قسم کے معاہدوں اور تعاون کو ختم کر دیا گیا ہے جن میں باربیرا، بوساسو اور کسمایو کی بندرگاہوں سے متعلق معاہدے بھی شامل ہیں۔ صومالیہ اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی سیکیورٹی اور دفاعی تعاون سمیت جن معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے تھے، وہ اب منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

صومالی کابینہ کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ ان منفی اقدامات اور رپورٹس کے مضبوط شواہد پر مبنی ہے جو ملکی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کو کمزور کرتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات خود مختاری، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور آئینی نظام کے احترام کے ان اصولوں کی خلاف ورزی ہیں جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، افریقین یونین کے ایکٹ، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر میں درج ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات صومالی عوام کی منشا سے ہم آہنگی نہیں رکھتے جو ملکی آزادی اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والے ہر عمل کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔

صومالی حکومت کے فیصلے سے متحدہ عرب امارات کو فوری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ساتھ ہی فیصلے کی روشنی می صومالیہ کی وزارتِ خارجہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کو سرکاری طور پر آگاہ کر دے، اس فیصلے کے عمل درآمد کے لیے اس سے رابطے میں رہے اور تمام علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں بشمول اقوامِ متحدہ اور افریقی یونین کو اس فیصلے سے متعلق آگاہ کرے۔


##صومالیہ
##متحدہ عرب امارات
##اسرائیل
##صومالی لینڈ