
پنجاب پولیس کے سربراہ نے ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے صرف آٹھ ماہ میں 900 سے زیادہ ملزمان کو مشکوک پولیس مقابلوں میں ہلاک کر دیا ہے۔
جمعرات کو صحافیوں نے آئی جی پنجاب عبدالکریم سے اس رپورٹ کے بارے میں سوالات کیے تو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہیں دیا۔
انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان (ایچ آر سی پی) نے منگل کو ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں پولیس کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے جعلی مقابلوں کی پالیسی اپنا رکھی ہے اور کئی کیسز میں ملزمان کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق یہ عمل صوبے میں عوام کے آئینی تحفظ اور قانون کی بالادستی کو کمزور کر رہا ہے۔
پنجاب میں پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کے بڑھتے واقعات
واضح رہے کہ پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پولیس مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکتوں یا زخمی ہونے کی خبریں تواتر سے سامنے آ رہی ہیں جن میں اکثر کیسز میں ایک ہی جیسے واقعات بتائے جاتے ہیں کہ ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا یا نیفے میں پستول چلنے سے زخمی ہو گیا۔ ان پولیس مقابلوں پر کئی حلقے سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ اس نے میڈیا میں رپورٹ ہونے والی خبروں کی بنیاد پر سی سی ڈی کے 670 مقابلوں کا ڈیٹا جمع کیا ہے۔ یہ مقابلے صرف پچھلے آٹھ ماہ کے دوران ہوئے ہیں جن میں کمیشن کے مطابق 924 ملزمان مارے جا چکے ہیں۔ جب کہ اس عرصے میں صرف دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن نے کہا ہے کہ روز اوسطاً دو پولیس مقابلے ہو رہے ہیں اور ان تمام مقابلوں میں یکسانیت نظر آتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چند افراد کے مس کنڈکٹ کے انفرادی واقعات نہیں ہیں بلکہ ادارے کی سطح پر یہ عمل اپنایا گیا ہے۔
ایچ آر سی پی کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ
ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن بنایا جائے جو ان ہلاکتوں کا جائزہ لے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اپنے ایک بیان میں سی سی ڈی کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف دو ہزار اہلکاروں نے پورے پنجاب میں امن امان قائم کر دیا ہے تو باقی پولیس کیا کر رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقات میں واضح ہوا ہے کہ پاکستان کے مقامی قوانین اور انسانی حقوق پر بین الاقوامی ذمے داریوں کی منظم انداز میں خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ گو کہ انسدادِ تشدد اور حراست میں موت کے خلاف 2022 کا قانون وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو واضح طور پر یہ حق دیتا ہے کہ وہ حراست میں ہونے والی ہر ہلاکت کی تحقیقات انسانی حقوق کے قومی کمیشن کی نگرانی میں کرے۔ لیکن ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ ان کیسز میں یہ لازمی عمل اپنایا گیا ہو۔
رپورٹ کے مطابق کمیشن نے کہ پنجاب حکومت، سی سی ڈی اور پولیس حکام سے معاملے پر گفتگو کے لیے ملاقات کی درخواست کی جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ یہ انتہائی مایوس کن صورتِ حال ہے اور اس عدم شفافیت سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کے ان معتبر الزامات کو حل کرنے کے لیے اداروں میں کتنی عدم دلچسپی ہے۔
ایچ آر سی پی کا مزید کہنا تھا کہ عوام کا پائیدار تحفظ ان خطرناک شارٹ کٹس کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا جو تحقیقات اور عدالتی احتساب سے بالاتر ہوں۔ کمیشن نے تجویز دی ہے کہ ایف آئی اے ان تمام پولیس مقابلوں کی تحقیقات انسانی حقوق کے قومی کمیشن کی نگرانی میں کرے اور ایک آزاد نگران کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس کے علاوہ مقابلوں میں ہلاک تمام افراد کے اہلِ خانہ کو زرِ تلافی کی ادائیگی کو بھی لازمی قرار دیا جائے۔






