رفح بارڈر کھلنے کا پہلا دن، اسرائیل نے غزہ میں آنے اور جانے والوں سے کیسا سلوک کیا؟

12:293/02/2026, Salı
جنرل3/02/2026, Salı
ویب ڈیسک
مصر کی سمت سے رفح بارڈر کا منظر
مصر کی سمت سے رفح بارڈر کا منظر

اسرائیل نے غزہ کے مصر کے ساتھ ملنے والے رفح بارڈر کو دو سال بند رکھنے کے بعد بالآخر پیر کو محدود پیمانے پر کھول دیا لیکن آمد و رفت کا عمل اسرائیل کی کڑی نگرانی کی وجہ سے انتہائی سست روی کا شکار رہا۔

رفح بارڈر غزہ کے 20 لاکھ رہائشیوں کے لیے علاقے سے نکلنے اور آنے کا واحد زمینی راستہ ہے۔ اس کے علاوہ غزہ میں آنے والی ساری امداد بھی اسی راستے سے داخل ہو رہی ہے۔ رفح کا سارا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے لیکن بارڈر کا گیٹ سلامت ہے۔

رفح بارڈر پیر کی صبح نو بجے آمد و رفت کے لیے محدود پیمانے پر کھولا گیا۔ توقع تھی کہ پہلے دن تقریباً 50 فلسطینی غزہ میں داخل ہوں گے جب کہ اتنے ہی افراد غزہ سے نکلنے کی امید میں تھے۔ غزہ سے نکلنے والوں میں اکثریت ان مریضوں کی تھی جنہیں علاج کی غرض سے باہر جانا تھا۔

لیکن آمد و رفت کا عمل انتہائی سست روی کا شکار رہا اور اسرائیل کی جانب سے رات گئے تک صرف 12 فلسطینیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ فلسطینی اور مصری ذرائع کے مطابق باقی 38 افراد کو سیکیورٹی کلیئرنس نہیں مل سکی اور انہیں مصر میں ہی رات گزارنا پڑی۔
غزہ واپس آنے والی ایک خاتون اپنے اہلِ خانہ سے مل کر آبدیدہ ہیں۔

مصری حکام کے مطابق منگل کو فلسطینیوں کے دوسرے گروپ کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ سے باہر جانے والے افراد میں سے بھی صرف پانچ لوگوں کو دو، دو رشتے داروں کے ساتھ جانے کی اجازت دی۔ اس طرح مجموعی طور پر صرف 27 افراد نے بارڈر کراس کیا۔

فلسطینی حکام نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل سیکیورٹی چیک میں تاخیر کر رہا ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے میں یہ شرط تھی کہ رفح بارڈر کو فلسطینیوں کے لیے کھولا جائے گا۔ اسرائیل کی جانب سے بڑی تاخیر کے بعد یہ سرحد محدود پیمانے پر کھولی گئی ہے۔

رفح بارڈر کا کھلنا کیوں اہم ہے؟

غزہ میں تقریباً 20 ہزار افراد علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کے منتظر ہیں۔ رفح بارڈر کے کھلنے سے انہیں امید ہو چلی ہے کہ وہ اب علاج کے لیے جا سکیں گے۔

الاقصیٰ اسپتال سے گردوں کا علاج کرانے والے غزہ کے رہائشی مصطفیٰ عبدالھادی نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ سرحد غزہ کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے، یہ ہم مریضوں کے لیے زندگی کی مانند ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے علاج کرانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل نے رفح بارڈر پر مئی 2024 میں قبضہ کیا تھا اور اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ اس سے قبل سات ماہ میں تقریباً ایک لاکھ فلسطینیوں نے رفح بارڈر کے ذریعے غزہ سے انخلا کیا تھا اور مصر چلے گئے تھے۔

مصر بارہا اعلان کر چکا ہے کہ وہ غزہ سے بڑے پیمانے پر مہاجرین کو مصر میں داخل ہونے نہیں دے گا۔ تاہم رفح بارڈر زخمی اور بیمار فلسطینیوں کے لیے علاج کی تلاش میں غزہ سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

پچھلے کئی ماہ کے دوران جب تک رفح بارڈر بند تھا، صرف چند ہزار فلسطینیوں کو غزہ سے باہر جانے کی اجازت ملی جو اسرائیل کے ذریعے کسی تیسرے ملک میں علاج کے لیے گئے۔

رفح بارڈر کے ذریعے آمد و رفت کے لیے فلسطینیوں کو اسرائیل سے لازمی اجازت درکار ہے۔ مصری ذرائع کے حوالے سے رائٹرز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سیکیورٹی اپروول کے بعد ہی فلسطینیوں کو آنے یا جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق سرحد پر کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کر کے ان پر خار دار باڑ لگائی گئی ہے۔ غزہ میں آنے یا جانے والوں کو دو رفح بارڈ پر تین دروازوں سے گزرنا پڑتا ہے جن میں سے ایک مصر کا ہے، ایک فلسطینی اتھارٹی کے زیرِ انتظام ہے جب کہ تیسرا بظاہر تو یورپی یونین کی ٹاسک فورس کی نگرانی میں ہے لیکن درحقیقت اسے اسرائیل کنٹرول کرتا ہے۔

رفح بارڈر کھلنے کے باوجود اسرائیل غیر ملکی صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا۔ اسرائیل نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں غیر ملکی صحافیوں کا داخلہ بند کر رکھا ہے۔

تمام غیر ملکی ادارے اس وقت غزہ کے اندر موجود مقامی صحافیوں کے ذریعے ہی رپورٹ کر رہے ہیں جب کہ غزہ کے سینکڑوں صحافی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس وقت غزہ کا 53 فیصد علاقہ اسرائیل کے مکمل کنٹرول میں ہے جہاں سے اس نے فلسطینیوں کو بے دخل کر کے عمارتوں کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ غزہ کی آبادی اب صرف ساحل کے ساتھ ایک پٹی کی شکل میں سکڑ کر رہ رہی ہے۔ بیشتر افراد یا تو خیموں میں یا تباہ حال عمارتوں میں گزارا کر رہے ہیں۔

##غزہ
##رفح بارڈر
##اسرائیل