
غزہ میں اتوار کو فلسطینیوں نے علاقے کی خراب ہوتی صورتِ حال، متعدد مسائل اور امداد کی ناکافی فراہمی کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔
مظاہرے میں شریک افراد نے مختلف بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر 'ناانصافی اور لاپروائی بہت ہوگئی'، 'ہر طرف کچرا ہے' اور 'وبائیں ہمیں خبردار کر رہی ہے' جیسی عبارتیں درج تھیں۔

'ہم اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں'
اسرائیلی حملوں سے بے گھر ہونے والی ایک فلسطینی لڑکی ایلین نے ترک خبر رساں ادارے 'انادلو' سے گفتگو میں کہا کہ 'ہم خیموں میں رہ رہے ہیں جو نہ سردی روکتے ہیں نہ گرمی۔ بچے اور لوگ بیماریوں سے، زخموں سے اور شدید ٹھنڈ سے مر رہے ہیں۔ ہم اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں ان گھروں کی ضرورت ہے جو ہمارا تحفظ کر سکیں۔'

غزہ کی وزارتِ صحت کے ایک عہدے دار سید اکلک کے مطابق اسرائیل کے حملے اب بھی جاری ہیں جس کی وجہ سے رہائشی علاقوں سے کچرا اٹھا کر دور دراز علاقوں میں لینڈ فل سائٹس تک پہنچانا ناممکن ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بے گھر افراد کے خیمے صفائی ستھرائی کی کم ترین سطح پر بھی پورا نہیں اترتے جس کی وجہ سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں۔ ان کے بقول چوہے اور کیڑے مکوڑوں کی تعداد حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے کیوں کہ اسرائیل نے انہیں مارنے کی دوائیں داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے۔
اکلک کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کو آوارہ جانوروں کی جانب سے لوگوں پر حملوں کی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں جن میں سے اکثر واقعات میں بچے نشانہ بنے تھے۔

جنگ بندی کے باوجود انسانی بحران شدید تر
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود اسرائیل معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور اس نے غزہ میں امداد کی فراہمی کو روک رکھا ہے جس کی وجہ سے انسانی بحران شدید تر ہو رہا ہے۔
میڈیا آفس کے مطابق لاکھوں فلسطینی خیموں میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں نہ شدید ٹھنڈ سے بچاؤ کا کوئی سامان ہے نہ بارش اور ہوا سے تحفظ۔ ناکافی طبی سہولتیں، پناہ میسر نہ ہونے اور ہیٹنگ کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے بالخصوص بچوں اور نومولود بچوں کو جان لیوا خطرات کا سامنا ہے۔






