
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعرات کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو ممنوع قرار دیا ہے، اسی لیے ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
خامنہ ای کی رائے ایرانی حکومت کے ہر معاملے میں حتمی سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے 2000 کی دہائی میں ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس میں ایٹمی ہتھیار بنانے کو ممنوع قرار دیا تھا۔ ایرانی صدر نے اپنے بیان میں اسی رائے سے متعلق بات کی ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ جب کسی معاشرے کا مذہبی رہنما اعلان کرتا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں جائیں گے تو یہ مؤقف اعتقادی اور فقہی بنیاد پر ہے۔ کوئی سیاسی حکمتِ عملی نہیں جو بدل سکتی ہو۔
ان کے بقول ایک سیاست دان مصلحت سے کام لیتے ہوئے کچھ بھی کہہ سکتا ہے لیکن مذہبی رہنما اپنے عقیدے اور شرعی حکم کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔
ایرانی صدر نے امریکی حکام کے حالیہ بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کہتے ہیں کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار کے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔ یہ بات ہم خود با رہا کہہ چکے ہیں کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر آج مذاکرات کا تیسرا دور سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہونا ہے۔ ان مذاکرات کی ثالثی عمان کر رہا ہے۔






