
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'بورڈ آف پیس' کے پہلے اجلاس میں اعلان کیا کہ بورڈ کے نو اراکین نے غزہ کے لیے سات ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کیے ہیں جب کہ پانچ ملکوں نے اپنی فوج بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
پاکستان فوج بھیجنے کا وعدہ کرنے والے پانچ ملکوں میں شامل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ خود امریکہ نے بورڈ آف پیس کے لیے 10 ارب ڈالر کا فنڈ مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
بورڈ کے پہلے اجلاس میں کیا ہوا؟
بورڈ آف پیس کا پہلا اجلاس جمعرات کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ہوا جس میں بورڈ کا حصہ بننے والے ملکوں کے نمائندے اور سربراہان شریک ہوئے۔
تقریباً 50 ملکوں اور یورپی یونین کے عہدے دار اس پہلے اجلاس میں شریک تھے۔ بیش تر ملکوں کی نمائندگی ان کے اعلیٰ عہدے دار کر رہے تھے لیکن کچھ ملکوں کے سربراہان بھی واشنگٹن میں موجود تھے۔
اس کے علاوہ جرمنی، اٹلی، ناروے، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ سمیت ایک درجن سے زیادہ ملک جو بورڈ میں تو شامل نہیں ہیں لیکن بطور مبصر اس اجلاس میں شامل ہوئے۔
یاد رہے کہ پاکستان بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہے۔ چناں چہ وزیرِ اعظم شہباز شریف بھی دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں موجود تھے۔
اجلاس میں غزہ کے مستقبل کے لیے بورڈ اراکین کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور وعدوں کا اعلان کیا گیا اور انہیں سراہا گیا۔
بورڈ سے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 'ایک ایک ڈالر استحکام لانے اور ہم آہنگی کی بنیاد پر خطے کی تشکیل کی امید میں سرمایہ کاری ہوگا۔ ان کے بقول بورڈ آف پیس یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اچھا مستقبل کیسے اس کمرے میں بیٹھ کر بنایا جا سکتا ہے۔

شرکا نے یکے بعد دیگرے اپنی باری پر اجلاس سے خطاب کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنازعات کے حل کی کوششوں کی تعریف کی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 'جنوبی ایشیا کو بچانے والا' قرار دیا۔ جب کہ کئی دیگر عہدے داروں کا کہنا تھا کہ جو ٹرمپ نے گزشتہ سال کیا ہے، وہ ان کے پیش رو امریکی صدور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ ٹرمپ اور دیگر موجود عہدے دار غزہ کے لیے کی گئی کوششوں کے باعث شکریے کے مستحق ہیں۔ تاہم ترک وزیرِ خارجہ نے مشکلات اور مسائل کی بھی نشان دہی کی اور غزہ کی ابتر صورتِ حال کو اجاگر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں صورتِ حال بدستور نازک ہے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ ایک جامع، فوری اور مؤثر ردعمل انتہائی ضروری ہے۔
کن ملکوں نے فوج اور فنڈنگ کے وعدے کیے؟
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انڈونیشیا، مراکش، قزاقستان، کوسووو اور البانیا نے غزہ کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کے قیام کے لیے اپنے فوجی دستے مہیا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب کہ مصر اور اردن نے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تربیت کریں گے۔
اسٹیبلائزیشن فورس کو پہلے مرحلے میں رفح کے علاقے میں تعینات کیا جائے گا جو غزہ اور مصر کے درمیان سرحدی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ ابھی مکمل طور پر اسرائیل کے کنٹرول میں ہے اور بیش تر علاقہ تباہ شدہ ہونے کی وجہ سے آبادی سے خالی ہو چکا ہے۔ امریکی انتظامیہ پرامید ہے کہ سب سے پہلے اس علاقے میں تعمیرِ نو کے کام پر توجہ دی جا سکتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا عزم ظاہر کرنے والے ملکوں میں قزاقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔

وہ سوال جن کے جواب آنا باقی ہیں
غزہ کے ریلیف پیکج کے لیے جو سات ارب ڈالر کی رقم کا وعدہ کیا گیا ہے وہ علاقے کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے درکار رقم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے 70 ارب ڈالر کی خطیر رقم کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
پھر صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ تفصیلات بھی نہیں بتائی گئیں کہ جن اراکین نے رقم یا فوج بھیجنے کا وعدہ کیا ہے، اس پر کب تک عمل درآمد کرنا ہوگا۔
ٹرمپ نے خود امریکہ کی طرف سے بورڈ آف پیس کو 10 ارب ڈالر مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس سے متعلق بھی واضح نہیں ہے کہ وہ رقم کہاں خرچ ہوگی۔ نہ ہی یہ بتایا گیا کہ امریکہ یہ رقم کس مد میں اور کہاں سے فراہم کرے گا۔ کیوں کہ ٹرمپ کو اتنی خطیر رقم کی فنڈنگ مہیا کرنے کے لیے امریکی کانگریس کی اجازت درکار ہوگی۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ 'مجھے بہت اچھا لگے گا اگر چائنہ اور روس بھی اس میں شامل ہوں۔ انہیں دعوت دی جا چکی ہے۔ ہمیں دونوں کی ضرورت ہے۔'
ایک اور بڑا مسئلہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا بھی ہے۔ یہ سب سے بڑا سوال ہے کہ کیا حماس ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوگی اور یہ عمل کیسے مکمل کیا جائے گا۔
حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ میں تعمیرِ نو کا کوئی کام نہیں ہوگا: نیتن یاہو
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک غزہ کو غیر مسلح نہیں کر دیا جاتا، وہاں تعمیرِ نو کا کوئی کام نہیں ہوگا۔
بورڈ آف پیس کے اجلاس میں اسرائیل کی نمائندگی کرنے والے وزیرِ خارجہ گیدون سعار نے کہا کہ 'غزہ میں انتہاپسندی کے خاتمے کا عمل لازمی ہونا چاہیے۔'
دوسری جانب ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ حماس نے غیر مسلح ہونے کا وعدہ کیا ہے اور اگر وہ اس کی پاسداری نہیں کرتے تو سختی سے نمٹا جائے گا۔






