ایران کے مظاہروں میں ہلاکتیں 2500 سے بھی زیادہ ہو گئیں، ٹرمپ کی مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے اور اداروں پر قبضے کی تجویز

10:0014/01/2026, بدھ
جنرل14/01/2026, بدھ
ویب ڈیسک
عراق کے شہر بصرہ میں لوگ ایرانی حکومت کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔
عراق کے شہر بصرہ میں لوگ ایرانی حکومت کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی امریکی تنظیم 'ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی' (ہرانہ) نے کہا ہے کہ مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتیں 2500 سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔

تنظیم کے بدھ کو جاری بیان کے مطابق اس نے اب تک 2403 مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جب کہ 147 سرکاری اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر 2571 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

منگل کو ایک ایرانی عہدے دار نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا تھا کہ دو ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایرانی عوام مظاہرے کرتے رہیں، مدد آ رہی ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اپنے بیان میں ایرانی عوام کو احتجاج جاری رکھنے کی تجویز دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ان لوگوں کے نام یاد رکھیں جو ان پر مظالم کر رہے ہیں، مدد آ رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا 'محب وطن ایرانیوں، مظاہرے کرتے رہو۔ اپنے اداروں پر قبضہ کر لو۔ مدد آ رہی ہے۔'

امریکی صدر کے بقول انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام میٹنگز منسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں روکا جاتا۔ بعد ازاں اپنے ایک خطاب میں ٹرمپ نے ایرانی عوام کو کہا کہ وہ قتل کرنے والوں اور مظالم ڈھانے والوں کے نام یاد رکھیں کیوں کہ انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ٹرمپ سے صحافیوں نے سوال کیا کہ 'مدد آ رہی ہے' سے ان کا کیا مطلب تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا مطلب آپ خود سمجھ لیں۔

ٹرمپ نے ایرانی حکومت کو مظاہرین کو سزائے موت دینے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ بہت سخت اقدام کریں گے۔

'مدد آ رہی ہے' پر ایران کا ردعمل

ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر عامر سعید اراوانی نے کہا کہ امریکی صدر تشدد کو بھڑکا رہے ہیں، ایران کی خود مختاری و سیکیورٹی کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں اور حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ 'معصوم شہریوں کی ہلاکت کی ذمے داری امریکہ اور اسرائیلی رجیم پر براہِ راست اور بلاتردید عائد ہوتی ہے۔

ایرانی حکومت مضبوط

ایران میں مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے تھے جو بعد ازاں پرتشدد رنگ اختیار کرتے گئے تاہم اب حالات حکومت کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔

تمام تر غیر ملکی دباؤ اور اندرونی خلفشار کے باوجود ایرانی حکومت مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم اس پر بیرونی دباؤ اب بھی برقرار ہے۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے ایرانی سفارت کاروں کو طلب کر کے مظاہرین پر کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ بھی مسلسل ایرانی حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔

##ایران
##امریکہ
##مظاہرے