انڈیا کی افغانستان میں پاکستان کے فضائی حملوں کی مذمت، افغان طالبان کی مناسب وقت پر جواب دینے کی وارننگ

08:5423/02/2026, پیر
جنرل23/02/2026, پیر
ویب ڈیسک
افغان صوبے ننگرہار میں حملوں میں ہونے والی تباہی کے مناظر
افغان صوبے ننگرہار میں حملوں میں ہونے والی تباہی کے مناظر

انڈیا نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اپنی اندرونی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے جب کہ افغانستان نے پاکستان کو جوابی کارروائی سے خبردار کیا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ 'انڈیا رمضان کے مقدس مہینے میں افغان سرزمین پر پاکستان کے فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتا ہے جن میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔'

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا افغانستان کی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی یہ کارروائی اپنی اندرونی ناکامیوں کی ذمے داری دوسروں پر ڈالنے کی ایک اور کوشش ہے۔

پاکستان کا دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

یاد رہے کہ ہفتے کی رات گئے پاکستان نے افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگرچہ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات اور نشریات نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا تھا کہ حملے افغانستان میں کیے گئے، تاہم افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات پر دھماکوں میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ اسلام آباد نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کارروائی کے دوران تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور ان کے اتحادی داعش خراسان سے وابستہ دہشت گردوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں بشمول اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں حملوں کے بعد پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ کارروائیاں افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی قیادت اور سرپرستوں کی ایما پر انجام دی گئی ہیں۔ ان حملوں کی ذمے داری افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی ان کے ساتھی گروہوں اور داعش خراسان نے قبول کی ہے۔
ننگرہار میں حملوں میں ہلاک افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔

وزارتِ اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان کی طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی عناصر کے ہاتھوں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ تاہم افغان حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے پاکستان نے جوابی کارروائی کے طور پر انتہائی درستگی اور مہارت کے ساتھ دہشت گردوں کے سات کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

'مناسب وقت پر حملوں کا بھرپور جواب دیں گے'

تاہم افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکومت نے پاکستان کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان کی وزارتِ دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے اپنی ماضی کی جارحیت کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر افغانستان کے ننگرہار اور پکتیکا صوبوں میں شہری آبادیوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ بیان کے مطابق حملوں میں ایک مدرسے اور متعدد شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں معصوم شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

وزارتِ دفاع نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افغانستان کی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی قوانین اور اسلامی اقدار کے بھی منافی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت دفاع پر اپنے ملک کی خود مختاری اور اپنے شہریوں کے تحفظ کی ذمے داری ہے اور مناسب وقت پر ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

وزارتِ دفاع کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہری آبادی اور مدارس کو نشانہ بنانا پاکستان کی فوج کی انٹیلی جینس اور سیکیورٹی کی ناکامی ہے اور وہ اس طرح کے حملوں سے اپنے اندرونی مسائل پر پردہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

##پاکستان
##افغانستان
##انڈیا