
اسرائیل کی کابینہ نے اتوار کو ان اقدامات کی توثیق کر دی ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کے کنٹرول کو بڑھا دیں گے اور آبادکاروں کے لیے زمین خریدنا آسان ہو جائے گا۔ فلسطینی ان اقدامات کو ان کی زمین اسرائیل میں ضم کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس قانون کے بعد فلسطینیوں کو اپنی زمین پر حقِ ملکیت ثابت کرنا ہوگا اور زمین کی ملکیت کا ثبوت دینا ہوگا۔ ماہرین کے بقول فلسطینیوں کی زمین یا تو ان کے نام پر رجسٹر نہیں ہے یا پھر کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی زمینوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
مغربی کنارہ یا غرب اردن ان علاقوں میں شامل ہے جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مغربی کنارے کے بڑے حصے پر اسرائیل قابض ہے۔ صرف کچھ علاقوں میں فلسطینیوں کو محدود پیمانے پر انتظامی امور دیکھنے کی اجازت ہے جہاں فلسطینی اتھارٹی یہ معاملات دیکھتی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کسی بھی فلسطینی ریاست کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی وزرا نے 1967 میں مغربی کنارے پر قبضے کے بعد اتوار کو پہلی بار زمین کی رجسٹریشن کے عمل کے لیے ووٹ دیا ہے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل حکومت نے مغربی کنارے میں کئی ایسے متنازع اقدامات کی منظوری دی تھی جس کی عالمی برادری نے مذمت کی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ خزانہ بیزالل سموترچ نے کہا ہے کہ 'ہم آبادکاری کا انقلاب جاری رکھ رہے ہیں اور اپنی زمین کے تمام حصوں پر قبضہ مضبوط کر رہے ہیں۔'
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے زمین کی رجسٹریشن کو سیکیورٹی کے لیے ضروری اور اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ جب کہ کابینہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ 'فسطینی اتھارٹی کے زمین کی رجسٹریشن کے غیر قانونی عمل کا مناسب جواب ہے۔'
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق ان اقدامات سے شفافیت کو فروغ ملے گا اور زمین کے تنازعات کے حل میں مدد ملے گی۔

فلسطینی اتھارٹی کے مطابق یہ اقدامات اس بات کا اعلان ہیں کہ اسرائیل غیر قانونی آبادکاری کے ذریعے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کی کوشش کے لیے مغربی کنارے کا الحاق کر رہا ہے۔
اسرائیلی آبادکاریوں پر نظر رکھنے والے ادارے پیس ناؤ نے کہا ہے کہ ان اقدامات سے فلسطینی مغربی کنارے میں اپنی نصف زمین سے محروم ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ لیکن ان کی حکومت اسرائیل کی آبادکاریوں کے بڑھتے اقدامات پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور اسے روکنے میں ناکام ہے۔






