فلسطینیوں کی مدد کے لیے ایک اور فلوٹیلا غزہ لے جانے کا منصوبہ، 'اس بار دُگنی طاقت سے جائیں گے'

11:496/02/2026, Cuma
جنرل6/02/2026, Cuma
ویب ڈیسک
فائل فوٖٹو
فائل فوٖٹو

فلسطینیوں کی امداد اور اسرائیل کا محاصرہ توڑنے کے لیے گزشتہ سال غزہ جانے کی کوشش کرنے والے فلوٹیلا کے کارکنان نے ایک اور کوشش کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس بار پہلے سے بڑا فلوٹیلا لے جانے پر کام ہو رہا ہے۔

گزشتہ سال اسرائیلی فوج نے 'گلوبل صمود فلوٹیلا' کی غزہ پہنچنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا اور فلوٹیلا کی تقریباً 40 کشتیوں اور ان میں موجود 450 کے قریب کارکنان کو حراست میں لے کر بے دخل کر دیا تھا۔

تاہم کارکنان کو امید ہے کہ اس سال وہ دوبارہ کوشش کریں گے اور پہلے سے دوگنی کشتیاں اور ایک ہزار کے قریب طبی عملے کو لے کر غزہ پہنچنے کی کوشش کریں گے۔

بدھ کو فلوٹیلا کے منتظمین جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں جمع ہوئے اور غزہ پہنچنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ اس بار وہ 100 کشتیاں غزہ لے جانے کی کوشش کریں گے۔

جنوبی افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا بھی فلوٹیلا کے منتظمین میں شامل ہیں اور انہیں بھی گزشتہ سال اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا تھا۔ منڈلا منڈیلا نے کہا کہ 'یہ حقوق کی جنگ ہے ان لوگوں کے لیے جو سب لوگوں کے انصاف اور وقات کے لیے کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ ہم عالمی برادری کو متحرک کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں۔'

اسرائیل نے پچھلے سال فلوٹیلا کارکنان کی غزہ پہنچنے کی کئی کوششوں کو روک دیا تھا اور اسے بارہا شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ میں وافر مقدار میں امداد پہنچنے دے رہا ہے۔ جب کہ کئی ادارے اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔ فلسطینی اور بین الاقوامی امدادی اداروں کو کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود وافر مقدار میں امداد داخل نہیں ہونے دی جا رہی۔

اسرائیل کا نہ صرف غزہ کے تمام داخلی راستوں اور سرحدوں پر مکمل کنٹرول ہے بلکہ وہ غزہ کے 53 فیصد علاقے پر بھی قابض ہے اور وہاں سے فلسطینیوں کو نکال چکا ہے۔ غزہ کی پوری آبادی اب صرف 47 فیصد علاقے میں سمٹی ہوئی ہے جو بیش تر تباہ ہے۔

ایسی صورتِ حال میں اگر فلوٹیلا ایک اور کوشش کرتا ہے اور اسرائیل اسے روکتا ہے، تو کارکنان کا کہنا ہے کہ روکے جانے کے باوجود وہ غزہ کے عوام کی مشکلات دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ایک کارکن سوزان عبداللہ کے بقول 'ہم شاید غزہ نہ پہنچ سکیں لیکن ہم غزہ کے لوگوں تک پہنچ جائیں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم محاصرہ توڑنے تک نہیں رکیں گے۔'


##غزہ
##فلوٹیلا
##فلسطین