وینزویلا پر امریکی حملہ: سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس، چائنہ اور کولمبیا کی مذمت، پاکستان کا محتاط ردعمل

10:066/01/2026, Salı
جنرل6/01/2026, Salı
ویب ڈیسک
سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا
سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کو وینزویلا کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جب کہ روس اور چائنہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی کارروائی کی مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کو نیویارک میں قائم ہیڈکوارٹرز میں اس وقت منعقد ہوا جب وینزویلا کے صدر مادورو کو نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

اجلاس کے دوران اپنے بیان میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ 'مجھے وینزویلا میں عدم استحکام میں شدت کے امکانات، اس کے خطے پر ممکنہ اثرات اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے قائم ہونے والی مثال پر گہری تشویش ہے۔'

روس، چین اور کولمبیا نے امریکی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ جب کہ پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ارکان نے براہِ راست امریکہ پر تنقید کرنے کے بجائے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاس داری کی اہمیت پر زور دیا۔

'ہم کسی ملک پر قبضہ نہیں کر رہے'

اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ نے 'فوج کی معاونت سے ایک محدود اور قانون نافذ کرنے کی کارروائی' کے ذریعے دو مفرور ملزمان کو گرفتار کیا جن میں مادورو اور ان کی اہلیہ شامل ہیں۔

والٹز نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ وینزویلا یا اس کے عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ ہم کسی ملک پر قبضہ نہیں کر رہے۔'

اقوامِ متحدہ میں وینزویلا کے سفیر نے امریکی کارروائی کو 'ایک غیر قانونی مسلح حملہ' قرار دیا۔'

روس کی تنقید

اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر نے کہا کہ 'وہہ ممالک جو دوسرے مواقع پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں پر چیختے چلاتے نظر آتے ہیں، آج اصولی مؤقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں جو منافقت کا مظہر ہے۔'

روس، چین اور وینزویلا نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو رہا کرے۔

یاد رہے کہ امریکہ کو سلامتی کونسل کے ذریعے کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی پر جواب دہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کیوں کہ سلامتی کونسل میں امریکہ کو روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ویٹو کا اختیار حاصل ہے جس کے ذریعے وہ کسی بھی کارروائی کو روک سکتا ہے۔

پاکستان کا مؤقف

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے وینزویلا کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ 'دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے نئے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔'

عثمان جدون کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کا واحد حل مکالمہ اور سفارت کاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان وینزویلا میں حالیہ پیش رفت کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اقوامِ متحدہ کا منشور ہمیں اس کا پابند بناتا ہے کہ ہم کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہیں۔ یہ منشور رکن ممالک کو خودمختار مساوات، دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کا بھی پابند کرتا ہے۔'

عثمان جدون نے کہا کہ یک طرفہ فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی خودمختاری کے نظریے کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں، پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں، کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس نازک صورتِ حال کو مزید بگاڑ سکتا ہو، اور خلوصِ نیت سے پیش کی گئی ثالثی کی پیش کشوں سمیت مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔

##اقوام متحدہ
##امریکہ
##وینزویلا