'پاکستان کو حملوں کا عسکری جواب دیں گے': افغان طالبان کا اسلام آباد پر داعش کو پناہ دینے کا الزام

09:2226/02/2026, Perşembe
جنرل26/02/2026, Perşembe
ویب ڈیسک
ذبیح اللہ مجاہد
ذبیح اللہ مجاہد

افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں کا عسکری جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان پر افغان شہریوں کو نشانہ بنانے اور اپنے ملک میں داعش کے جنگجوؤں کو 'محفوظ پناہ گاہیں' فراہم کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

بدھ کو 'العربیہ انگلش' کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ 'پاکستان کو عسکری جواب دیا جائے گا لیکن اس کی تفصیلات خفیہ ہیں اور وہ ابھی اس بارے میں مزید کچھ نہیں بتا سکتے۔ پاکستان کو اس کے شرمناک اقدام کا جواب ملنا چاہیے۔'

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کو نہیں بلکہ شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ترجمان طالبان حکومت کے بقول ننگرہار میں کیے گئے حملے میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ پکتیکا میں ایک اسکول پر حملہ ہوا جس میں ایک بچہ زخمی اور کئی عمارتیں تباہ ہوئیں۔

ذبیح اللہ نے دعویٰ کیا کہ وہاں کوئی مسلح جنگجو نہیں تھے بلکہ صرف عام شہری نشانہ بنے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے پچھلے ہفتے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستانی حکام اور سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں تقریباً 80 دہشت گرد مارے گئے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور داعش سے منسلک جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔ کابل ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے۔

پاکستان بغیر ثبوت افغانستان پر الزام لگاتا ہے: ذبیح اللہ مجاہد

ذبیح مجاہد نے ایک بار پھر ان الزامات کو مسترد کیا کہ افغانستان عسکریت پسند گروہوں کو پڑوسی ممالک کے خلاف اپنی زمین استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بدقسمتی سے جب بھی پاکستان میں حملے ہوتے ہیں، وہ فوراً بغیر کسی ثبوت کے انہیں افغانستان سے جوڑ دیتے ہیں اور ہم پر الزام لگاتے ہیں۔ ہم اسے رد کرتے ہیں۔ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔'

انہوں نے کہا کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں کوئی وجود نہیں رکھتی۔ ان کے بقول 'یہ پاکستان کے اندرونی مسائل ہیں۔ ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر بڑے علاقوں پر قابض ہے۔ وہ وہاں رہ سکتے ہیں، افغان زمین کی انہیں ضرورت نہیں۔'

ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے اپنے دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ 'کوئی ثبوت یا شواہد پیش کیے بغیر وہ صرف دعوے کرتے ہیں، پروپیگنڈا کرتے ہیں اور پھر ایسے اقدامات کرتے ہیں جنہیں ہم ناقابلِ معافی سمجھتے ہیں۔'

واضح رہے کہ پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اس نے مختلف سطحوں پر افغان سرزمین استعمال ہونے سے متعلق واضح شواہد فراہم کیے ہیں۔

افغان حکومت کے ترجمان نے خطے کے ممالک اور مسلم اکثریتی ملکوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے اقدامات کی مذمت کریں اور اسے اپنا رویہ بدلنے پر مجبور کریں۔

طالبان ترجمان کا پاکستان پر داعش کے دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام

افغان طالبان کے ترجمان نے الٹا پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ داعش کے جنگجوؤں کو پناہ دے رہے ہیں۔

ان کے بقول داعش کو کچلنے کے بجائے پاکستان اسے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عسکریت پسند موجود ہیں۔ کچھ کیسز میں وہ انہیں افغانستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور ان کے ذریعے آپریشنز اور دہشت گرد حملے کراتے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان خود داعش کے حملوں کا شکار ہے اور حال ہی میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں دھماکے کی ذمے داری بھی داعش نے قبول کی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر خطے میں عدم استحکام پھیلانے کا بھی الزام لگایا اور مزید کہا کہ 'ہم نے کابل اور دیگر صوبوں میں داعش کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں اور انہیں ختم کیا ہے۔ اب ان کا افغانستان میں کوئی وجود نہیں ہے۔'

ذبیح اللہ مجاہد کے ان الزامات پر پاکستان کی جانب سے فی الحال کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

##افغانستان
##پاکستان
##طالبان