
پاکستان اور امریکہ کی حکومت نے نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی بحالی کے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت دونوں مل کر اس ہوٹل کو دوبارہ فعال بنائیں گے۔
پاکستان کے محکمۂ خزانہ نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے روزویلٹ ہوٹل کی بحالی، تزئین و آرائش، مینٹیننس اور اس کا نظام چلانے کے لیے تعاون کے منصوبے پر مبنی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
امریکہ کے کاروباری مرکز نیویارک کے مرکز میں واقع روزویلٹ ہوٹل پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کی ملکیت ہے۔ تقریباً 100 سال پرانے اس ہوٹل کی قیمت اس وقت ایک ارب ڈالر سے زیادہ بنتی ہے لیکن یہ 2020 سے بند ہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ریاستی اثاثوں کی ری اسٹرکچرنگ اور پرائیویٹائزیشن کرے گا۔ روزویلٹ ہوٹل کی بحالی کا پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس معاہدے سے پاکستان کو امید ہے کہ وہ اپنے بیرونِ ملک اثاثوں سے مکمل فائدہ لینے میں کامیاب ہوگا۔
محکمۂ خزانہ کے بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کی نجکاری کی حکمتِ عملی کے مطابق اس جائیداد کی زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کی جائے اور ساتھ ہی پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بنایا جائے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاہدے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس نے یادداشت کا مسودہ دیکھا ہے لیکن اس میں مالی معاملات کی وضاحت نہیں ہے کہ شرائط کیا ہیں۔ مسودے میں صرف یہ درج ہے کہ 'امریکہ کی جنرل سروس ایڈمنسٹریشن اور پاکستان کی وزارتِ دفاع اس منصوبے کی معاونت کرے گی۔'
امریکہ میں جنرل سروس ایڈمنسٹریشن کا محکمہ وفاقی حکومت کی املاک کا انتظام دیکھتا ہے اور سرکاری اداروں کے لیے املاک کی خرید و فروخت کا نظام بھی سنبھالتا ہے۔ تاہم اس کے مینڈیٹ میں کسی دوسرے ملک کے اثاثوں کی کمرشل بنیادوں پر بحالی شامل نہیں ہے۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ یہ محکمہ کس اختیار کے تحت اس پروجیکٹ میں معاونت کرے گا۔






