ٹی ٹی پی افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کر رہی ہے، افغان حکام کی پشت پناہی بھی حاصل ہے: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں تصدیق

14:4711/02/2026, بدھ
جنرل11/02/2026, بدھ
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی رواں ماہ جاری ایک رپورٹ میں پاکستان کے ان دعوؤں کی تصدیق کی گئی ہے کہ دہشت گرد تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کر رہی ہے اور اسے افغان طالبان کی مدد بھی حاصل ہے۔

پاکستان بارہا افغانستان پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہی ہے اور دہشت گردوں کو کابل کی مدد حاصل ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان افغانستان سے آپریٹ کر رہے ہیں۔

افغان حکام ان الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی رپورٹ نے پاکستان کے دعوؤں کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ٹی ٹی پی پورے خطے کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

'یو این سیکیورٹی کونسلز اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم' کی 37 ویں جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے مقتدر حلقے متعدد مسلح گروہوں بالخصوص ٹی ٹی پی کو 'آزادانہ ماحول' فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی ان بڑی دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہے جو افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں اور اس کے پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور ریاستی ڈھانچوں پر حملوں کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان فوجی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ حملے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں جن میں اکثر بڑی تعداد میں جنگجو شریک ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں دیگر ملکوں کے خدشات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کچھ رکن ریاستوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹی ٹی پی القاعدہ کے حامی گروہوں کے ساتھ تعاون بڑھا کر حملوں کا دائرہ کار پھیلا سکتی ہے اور ممکنہ طور پر خطے سے باہر کے ممالک کے لیے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

سیکیورٹی کونسل کی رپورٹ میں درج ہے کہ اسلام آباد میں نومبر 2025 میں کچہری کے باہر جو دھماکہ کیا گیا، اس کی ذمے داری ٹی ٹی پی سے علیحدہ ہونے والے ایک گروپ نے قبول کی۔ اور یہ پاکستان کے دارالحکومت میں کئی سال بعد ایسا پہلا حملہ تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں مقتدر حکام کی جانب سے بڑی مدد اور آزادی مل رہی ہے جس کے نتیجے میں اس کے پاکستان میں حملے بھی بڑھے ہیں اور علاقائی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ القاعدہ کو بھی افغان حکام کی حمایت حاصل ہے اور القاعدہ دیگر گروہوں کو وسائل مہیا کر رہی ہے اور بڑھا رہی ہے۔ القاعدہ ٹی ٹی پی کو بھی ٹریننگ اور مشاورت دے رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے کئی دیگر رکن ممالک کے علم میں بھی یہ چیز آئی ہے کہ امریکہ اور اتحادی افواج کا افغانستان میں چھوڑا گیا جدید اسلحہ پھیلایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ٹی ٹی پی کے پاکستانی فورسز کے خلاف حملے مزید مہلک ثابت ہو رہے ہیں۔

##پاکستان
##اقوامِ متحدہ
##افغانستان
##ٹی ٹی پی