ایران میں معاشی مسائل کے خلاف مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے، متعدد افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات

10:462/01/2026, Cuma
جنرل2/01/2026, Cuma
ویب ڈیسک
مظاہرین ایک سرکاری عمارت پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔
مظاہرین ایک سرکاری عمارت پر پتھراؤ کر رہے ہیں۔

ایران میں جاری مظاہروں میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ملک کے کئی صوبوں میں معاشی ابتری اور مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر رہے ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی 'فارس' نے رپورٹ کیا ہے کہ مغربی صوبے لورستان میں جمعرات کو ایک پرتشدد واقعے میں تین مظاہرین ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے ہیں۔

فارس نیوز کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن پر دھاوا بول دیا اور اندر داخل ہو ہو گئے۔ اس دوران ان کی پولیس اہلکاروں سے جھڑپیں ہوئیں اور مظاہرین نے پولیس کی کئی گاڑیاں بھی جلا دیں۔

اس سے قبل فارس اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے چھارمحل بختیاری صوبے میں بھی ہلاکتیں رپورٹ کیں۔ حکام نے ایران کے مغربی شہر خودشت میں ایک ہلاکت کی تصدیق کی جب کہ انسانی حقوق کی تنظیم ہنگا نے اصفہان صوبے میں ایک ہلاکت رپورٹ کی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق مجموعی طور پر سات افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے دو ہلاکتیں بدھ کو ہوئیں جب کہ پانچ افراد جمعرات کو ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

متعدد شہروں میں پرتشدد واقعات رپورٹ

ایران میں کرنسی کی غیر معمولی گرتی قدر، معاشی بحران اور مہنگائی کے خلاف تاجروں اور کاروباری افراد کا احتجاج اتوار کو تہران سے شروع ہوا تھا جس کے بعد اس میں دیگر لوگ بھی شامل ہو گئے اور مظاہرے ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل گئے۔ اب مظاہرے پرتشدد رنگ اختیار کر رہے ہیں اور کئی علاقوں میں بدامنی کے واقعات پیش آئے ہیں۔

فارس نیوز نے رپورٹ کیا کہ ایران کے شہر لردگان نے میں سیکیورٹی اہلکاروں اور 'مسلح مظاہرین' کے درمیان جھڑپوں میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہنگا کے مطابق یہاں کئی افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ کوھدشت کے علاقے میں ان کا ایک اہلکار ہلاک اور 13 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس کا ذمے دار مظاہرین کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ احتجاج کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

جب کہ انسانی حقوق کی تنظیم ہنگا نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص جس کا نام پاسدارانِ انقلاب نے امیرحسام خودیاری بتایا ہے، وہ احتجاج میں شامل تھا اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاک ہوا۔

اس کے علاوہ بھی ملک کے کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات اور مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کو ہوا دینے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے دو کا تعلق یورپی گروپس سے بتایا جا رہا ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق ایک اور آپریشن میں سیکیورٹی فورسز سے 100 سے زیادہ اسمگل شدہ پستول بھی قبضے میں لیے ہیں تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

ایرانی حکومت کے لیے مشکل وقت

ایران کی حکومت معاشی مسائل اور مغربی ممالک کی پابندیوں کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہے۔ ملک میں افراطِ زر 40 فیصد سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

حکومت نے مظاہرین کو مذاکرات سے مسائل حل کرنے کی پیش کش کی ہے تاہم اس کے باوجود بعض علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے استعمال کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

کئی روز سے جاری مظاہروں کی وجہ سے ایران کے بیش تر بڑے بازار بند پڑے ہیں۔ مظاہروں میں تاجر، دکان دار اور کئی یونیوسٹیوں کے طلبہ بھی شریک ہیں۔ ایرانی حکومت نے بدھ کو ملک کے بڑے حصے میں عام تعطیل کا اعلان کیا جس کی وجہ سرد موسم بتائی گئی۔

ایرانی معیشت پچھلے کئی برسوں سے مشکلات کا شکار ہے جس کی بڑی وجہ امریکہ اور مغربی ممالک کی ایران پر عائد پابندیاں ہیں۔ امریکہ اور مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے جب کہ ایران اس سے یکسر انکار کرتا ہے اور اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔

گزشتہ سال ایران کی اسرائیل سے ہونے والی 12 روزہ جنگ نے بھی ملکی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ ایران کی کرنسی کی قدر 2025 میں تقریباً آدھی رہ گئی ہے اور ایک ڈالر 14 لاکھ ایرانی ریال کے برابر ہو چکا ہے۔
##ایران
##مظاہرے
##معاشی مسائل
##احتجاج