
پاک - افغان سرحد کا محاذ جمعرات کی رات سے ایک بار پھر گرم ہے۔ افغانستان کی جانب سے سرحد پر حملوں کے بعد پاکستان نے کابل، قندھار اور پکتیکا کے علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں اور اہم عسکری تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان بین الاقوامی قوانین کی پابندی کریں: اقوامِ متحدہ
بی بی سی کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک بین الاقوامی قانون، بالخصوص انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمے داریوں کی سختی سے پابندی کریں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے افغانستان اور پاکستان سے مسائل کا حل بات چیت سے تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔
جمعے کی صبح چمن بارڈر کی صورتِ حال


ایران کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے رمضان میں، جو ضبطِ نفس اور عالمِ اسلام میں یک جہتی کے فروغ کا مہینہ ہے، مناسب یہ ہوگا کہ افغانستان اور پاکستان اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت میں سہولت اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد کو تیار ہے۔
سعودی عرب کا پاکستان سے رابطہ
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود کا پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے ساتھ کشیدگی کی صورتِ حال پر گفتگو کی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزرائے خارجہ کے ٹیلی فونک رابطے میں خطے کی صورتِ حال اور علاقائی استحکام اور سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جمعرات کی رات سے جمعے کی دوپہر تک کیا کچھ ہوا؟
- پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان جھڑپیں جمعرات کی رات کو شروع ہوئی تھیں جو اب بھی جاری ہیں۔
- جمعرات کی رات طالبان حکومت کے ترجمان نے 21 فروری کے حملوں کے جواب میں سرحد پر پاکستانی پوسٹس کو نشانہ بنانے اور ان پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
- پاکستان نے افغانستان پر جوابی حملے کیے جو اب بھی جاری ہیں۔ پاکستانی فورسز نے افغانستان کے تین صوبوں میں فضائی حملے بھی کیے ہیں۔
- پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق کابل، قندھار اور پکتیکا میں طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
- پاکستان کے وزیرِ اطلاعات نے افغان طالبان کے 133 اہلکاروں کی ہلاکت اور 200 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
- طالبان کی وزارتِ دفاع نے پاکستان کے 55 فوجیوں کی ہلاکت اور متعدد کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
- طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔
- پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ ہمارے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔






