
بنگلہ دیش کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے اتحاد نے معرکہ مار لیا ہے اور اب تک سامنے آنے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق وہ دو تہائی اکثریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیا الرحمان کی جماعت بی این پی کے اتحاد کو 299 سیٹوں میں سے 212 پر برتری حاصل ہے۔ جب کہ جماعت اسلامی کا اتحاد 70 نشستوں پر آگے ہے۔
تاہم الیکشن کمیشن کے مطابق بی این پی 181 نشستوں پر، جماعتِ اسلامی 61 پر جب کہ دیگر جماعتیں سات نشستوں پر برتری لیے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی و سرکاری نتائج کا اعلان جمعے کی دوپہر تک متوقع ہے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی 20 سال بعد دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے، پارٹی نے بڑی جیت پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نمازِ جمعہ میں ملک کے لیے خصوصی دعائیں کرنے کی درخواست کی ہے۔
دوسری جانب طلبہ قیادت کی سیاسی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی جو جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل تھی اور 30 نشستوں سے اس کے امیدوار کھڑے تھے، ان میں سے صرف پانچ پر کامیاب ہو سکی ہے۔
مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کے انتخابات میں ٹرن آؤٹ (یعنی کتنے فی صد لوگوں نے ووٹ ڈالا) 60 فیصد کے قریب رہا۔
جماعت اسلامی کا نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے ووٹ گنتی کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے نتائج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ہم انتخابات کے نتائج کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔'
تاہم جماعت کے رہنماؤں نے صبر و تحمل اختیار کرنے کی بھی اپیل کی۔
انتخابات ملک میں استحکام کے لیے اہم
بنگلہ دیش کے ان انتخابات اور اس کے نتائج کو ملک میں استحکام کے حوالے سے بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ جولائی 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش میں انتشار، بے چینی اور بے یقینی کے فضا ہے جسے ان انتخابات سے ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بی این پی کو بھاری اکثریت سے فتح ملنے کی وجہ سے آئندہ حکومت کے لیے آسانی ہوگی کہ وہ اصلاحات اور قانون سازی پر مضبوط مینڈیٹ کے ساتھ کام کر سکے گی۔
بی این پی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان ممکنہ طور پر نئے وزیرِ اعظم ہوں گے جو تقریباً 18 برس جلا وطن رہنے کے بعد دسمبر 2025 میں ہی ڈھاکہ آئے تھے۔
گو کہ ابھی انتخابات کے حتمی و سرکاری نتائج کا اعلان نہیں ہوا ہے تاہم بی این پی کی ظاہر فتح پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے مبارک بادوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کے رہنما طارق رحمان کو 'بھاری اکثریت' حاصل کرنے پر مبارک باد دی ہے اور نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر نے بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کو کامیاب انتخابات اور 'تاریخی کامیابی' پر مبارک باد دی ہے جب کہ انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی مبارک باد اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
آئینی ریفرنڈم کے کیا نتائج آئے ہیں؟
گزشتہ روز لوگوں نے اپنے نمائندے کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ایک آئینی ریفرنڈم پر بھی اپنی رائے دی ہے جو ملک میں اصلاحات اور نظام کی تبدیلی سے متعلق تھا۔ ان مجوزہ اصلاحات میں وزیرِ اعظم کی مدت کو دو ٹرمز تک محدود کرنے اور مضبوط عدلیہ کے ساتھ ساتھ انتخابات کے دوران غیر جانب دار نگران حکومتوں کے قیام اور ایک اور ایوان قائم کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں۔
بنگلہ دیش کے 'جمنا ٹی وی' نے رپورٹ کیا ہے کہ تقریباً 20 لاکھ لوگوں نے 'ہاں' پر مہر لگائی جب کہ ساڑھے آٹھ لاکھ کے قریب افراد نے 'نہیں' کا آپشن چنا۔ تاہم ابھی ریفرنڈم سے متعلق کسی سرکاری عہدے دار کی طرف سے کوئی نتائج نہیں دیے گئے ہیں۔






