انڈیا اور یورپی یونین میں تجارت کا 'سب سے بڑا' معاہدہ، تقریباً دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر اتفاق

13:2227/01/2026, منگل
جنرل27/01/2026, منگل
ویب ڈیسک
دونوں فریقین اسے مدر آف آل ڈیلز قرار دے رہے ہیں
دونوں فریقین اسے مدر آف آل ڈیلز قرار دے رہے ہیں

انڈیا اور یورپی یونین تجارت کے ایک بڑے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔ تقریباً دو دہائیوں کے مذاکرات کے بعد طے پانے والے اس معاہدے کو دونوں فریق 'مدر آف آل ڈیلز' یعنی تمام معاہدوں کی ماں قرار دے رہے ہیں۔

منگل کو انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان معاشی اور اسٹرٹیجک روابط مضبوط کرنے کے لیے 'فری ٹریڈ ایگریمنٹ' پر اتفاق ہو گیا ہے۔

یہ دنیا کے بڑے باہمی تجارتی معاہدوں میں سے ایک ہے جس سے تقریباً دو ارب لوگوں کی معیشت جڑی ہے۔ اور یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور انڈیا دونوں ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھاری ٹیرفس کی زد میں ہیں۔

نریندر مودی نے منگل کو توانائی کانفرنس سے خطاب میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 'یہ معاہدہ انڈیا اور یورپ کے لوگوں کے لیے بڑے مواقع پیدا کرے گا۔ یہ عالمی جی ڈی پی کے ایک چوتھائی اور دنیا بھر کی تجارت کے ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈار لیئن نے ایکس پر لکھا کہ 'یورپ اور انڈیا آج ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ ہم نے مدر آف آل ڈیلز طے کر لی ہے۔ ہم نے دو ارب لوگوں کے لیے فری ٹریڈ زون بنایا ہے جو دونوں فریقین کو فائدہ پہنچائے گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تو صرف شروعات ہے۔ ہماری اسٹرٹیجک شراکت داری مزید مضبوط ہو گی۔'

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا ہے جس کے تحت 27 یورپی ممالک پر مشتمل یونین اور انڈیا کے درمیان کھلی تجارت ممکن ہو سکے گی۔

انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان مالی سال 2024-2025 میں 136.5 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی تھی۔ دونوں فریق 2030 تک اس کا حجم 200 ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔

وزیرِ اعظم مودی اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وون ڈیر لیئن کی منگل کو ملاقات شیڈول ہے جس میں دونوں رہنما مشترکہ طور پر معاہدے کا اعلان کریں گے۔

امریکہ نے روسی تیل خریدنے کی وجہ سے انڈیا پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا ہے جس کے باعث مجموعی ٹیرف 50 فیصد ہو چکا ہے۔ انڈیا اسی کے باعث اپنی برآمدات کا دائرہ دیگر ملکوں تک وسیع کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

یہ معاہدہ یورپی یونین کو دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی معیشتوں تک رسائی کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ یورپی برآمدات کاروں اور سرمایہ کاروں کی غیر مستحکم منڈیوں پر انحصار کم کرے گا۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اس معاہدے سے محصولات میں واضح کمی آئے گی اور ایک دوسرے کی منڈیوں تک بہتر رسائی ملے گی۔

##انڈیا
##یورپی یونین
##تجارت