
آج ترکیہ میں جنگِ عظیم اول کے دوران حاصل ہوئی ایک تاریخی فتح کا جشن منایا جا رہا ہے۔ 18 مارچ، ترکیہ میں چاناک قلعہ جنگ کی فتح اور شہدا کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے بدھ کو اس جنگ کی یاد دلاتے ہوئے ایک پیغام جاری کیا۔ جنگ کے 111 سال مکمل ہونے پر جاری پیغام میں صدر ایردوان نے کہا کہ 'چاناک قلعہ کی جنگ ایک منفرد اور شجاعت کی داستان تھی جو صرف لڑائی نہیں بلکہ یقین، قربانی، زمین سے محبت اور ایک قوم ہونے کے شعور کا اعلان تھی۔'

چاناک قلعہ یا گیلی پولی کی جنگ
یہ جنگ عثمانی سلطنت اور اتحادی افواج کے درمیان لڑی گئی تھی۔ اتحادی افواج میں برطانیہ اور فرانس کی فوجیں تھیں۔ 1915 میں ہونے والی اس لڑائی کو گیلی پولی کی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔
ترکیہ کا جزیرہ نما علاقہ گیلی پولی اس جنگ کا مرکزی میدان تھا جو اس سمندری راستے پر موجود ہے جو ماضی کی روسی سلطنت کی طرف جاتا تھا۔ برطانیہ اور فرانس اپنے اتحادی روس کے تحفظ کے لیے استنبول پر قبضہ کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے یہ لڑائی شروع کی۔

ترک افواج نے بحری جنگ میں اتحادی افواج کا بھرپور مقابلہ کیا اور دونوں طرف کا بڑا جانی نقصان ہوا۔ آٹھ ماہ تک جاری رہنے والی اس بحری و بری جنگ میں جب زمینی کارروائی بھی ناکام ہو گئی تو برطانیہ اور فرانس کی افواج پیچھے ہٹ گئیں اور ترکوں نے انہیں ان کے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
اتحادی افواج کے خلاف فتح نے ترکوں کے حوصلے بلند کیے جس کے بعد انہوں نے 1919 سے 1922 تک ترکیہ کی جنگِ آزادی لڑی اور بالآخر 1923 میں پرانی سلطنت کے ملبے سے ایک جمہوریہ قائم کی۔






