
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ڈیل کرنے کو بے تاب ہے لیکن وہ اس کے اظہار سے ڈرتا ہے۔ جب کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن ان کا تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں۔
دونوں جانب سے متضاد بیانات کا سلسلہ کئی روز سے جاری ہے۔ ایران مذاکرات کی تردید کرتا آ رہا ہے جب کہ امریکہ کا اصرار ہے کہ بات چیت ہو رہی ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں غیر یقینی اور دنیا کے لیے معاشی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ کئی ملکوں میں ایندھن کا بحران پرورش پا رہا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہو رہے لیکن کچھ ثالثوں کے ذریعے صرف پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے بدھ کو سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'کچھ دوست ممالک کے توسط سے پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے اور ہم نے جواب میں اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے کہ انہیں مذاکرات نہ کہا جائے۔'
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ابہام میں تیل کی قیمتوں میں روز اور گھنٹوں کی بنیاد میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ 103.85 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ جب کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 91.61 ڈالر کی سطح پر ہے۔
'ایران شکست تسلیم کر لے ورنہ زیادہ قوت سے حملہ ہوگا'
دوسری جانب امریکہ نے پھر دھمکی دی ہے کہ ایران شکست تسلیم کر لے ورنہ اس پر پہلے سے زیادہ قوت سے حملے کیے جائیں گے جب کہ ایران کے فوجی ذرائع حملے نہ روکے جانے کی صورت میں باب المندب بھی بند کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
عباس عراقچی کے اس بیان کے بعد بدھ کو ہی ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک ایونٹ سے خطاب میں کہا کہ 'ایرانی رہنما مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ بڑی بے تابی سے کوئی ڈیل کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے اظہار سے ڈرتے ہیں۔ کیوں کہ انہیں خدشہ ہے کہ انہیں اپنے ہی لوگ مار دیں گے۔'
تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ ایران میں کس سے مذاکرات کر رہا ہے۔
'ایران باب المندب میں نیا محاذ کھول سکتا ہے'
ادھر ایک ایرانی فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین یا خلیج فارس میں اس کے جزائر پر امریکہ نے زمینی حملہ کیا گیا تو تہران 'باب المندب کی آبنائے میں ایک نیا محاذ کھول سکتا ہے۔'
پاسدارانِ انقلاب سے منسلک سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے یہ خبر دی ہے۔ واضح رہے کہ باب المندب کی آبنائے بحیرہ احمر اور بحرِ ہند کے درمیان ایک اہم سمندری گزرگاہ ہے جس کے دہانے پر یمن واقع ہے۔ یمن کے حوثی، جو ایران کے اتحادی ہیں، اس سے پہلے بھی باب المندب کے علاقے میں حملے کر چکے ہیں۔






