ایران جنگ نے پاکستانی ایئر اسپیس کی پابندی کی شکار انڈین ایئرلائنز کی مشکلات دوگنی کر دیں، کچھ روٹس پر 64 فیصد پروازیں منسوخ

09:2111/03/2026, بدھ
جنرل11/03/2026, بدھ
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایران جنگ کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی حدود کی پابندیوں نے انڈین ایئرلائنز کی مشکلات دوہری کر دی ہیں جو پہلے ہی پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کا سامنا کر رہی تھیں۔

انڈین ایئرلائنز اپنے طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے بعد یورپ اور امریکہ کی پروازوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کا روٹ استعمال کر رہی تھیں۔ مگر جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں پروازوں کو ری شیڈولنگ یا روٹ تبدیل کرنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے انڈین ایئرلائنز کے لیے زیادہ مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ سال اپریل میں ہوئی جھڑپوں کے بعد سے انڈین طیاروں کے اپنی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

فضائی سفر پر نظر رکھنے والے ایک ادارے 'سیریم' کے ڈیٹا کے مطابق پچھلے 10 دنوں میں انڈیا کی دو بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز ایئر انڈیا اور انڈیگو نے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ کے لیے اپنی 64 فیصد پروازیں نہیں چلائیں۔ ان خطوں کے لیے دونوں ایئرلائنز کی 1230 پروازیں شیڈول تھیں جن میں سے بیش تر منسوخ ہو گئیں۔

ماہرِ ہوا بازی امیت متل اس صورتِ حال کو 'بین الاقوامی فضائی راستے استعمال کرنے والی انڈین ایئرلائنز پر دوہری ضرب' قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے لندن کے ایک معروف بینک 'ایچ ایس بی سی' نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی سے انڈین ایئرلائنز پر اخراجات کے اضافے اور منافع میں کمی کی وجہ سے 'بڑا بوجھ' پڑے گا۔ بینک نے تخمینہ لگایا تھا کہ اگر سات دن تک پروازیں منسوخ ہوتی ہیں تو ایئرلائنز کے سالانہ منافع کا 1.2 فیصد نقصان ہوگا۔

انڈیگو ایئرلائن کے مسائل

انڈیا کی انڈیگو ایئرلائن کو اس کے علاوہ بھی ایک اور بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ انڈیگو اپنے چھ لانگ رینج بوئنگ طیاروں پر بڑا انحصار کرتی ہے جو اس نے یورپ کی پروازوں کے لیے لیز پر حاصل کر رکھے ہیں۔

یہ طیارے ناروے میں رجسٹرڈ ہیں، لہٰذا انہیں یورپی یونین کے فضائی تحفظ کے سخت قوانین و ضوابط اور ایڈوائزری پر لازمی عمل کرنا ہوتا ہے۔ یورپی یونین کی ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایڈوائزری جاری کر رکھی ہے کہ ایئرلائنز ایران، عراق، اسرائیل، کویت، لبنان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں۔

اس پابندی کی وجہ سے انڈیگو کو براستہ افریقہ لمبا روٹ استعمال کرنا پڑ رہا ہے جس سے اس کی پروازوں کا دورانیہ دو گھنٹے تک بڑھ گیا ہے جو اخراجات میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

گزشتہ ہفتے اس روٹ کے چیلنج کے باوجود انڈیگو کی نئی دہلی سے مانچسٹر جانے والی پرواز کو افریقہ سے واپس لوٹنا پڑا جب ایک افریقی ملک اریٹیریا نے اسے اپنی ایئراسپیس سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو ذرائع نے بتایا کہ اریٹیریا کا ایئر ٹریفک کنٹرول یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ ناروے میں رجسٹر جہاز انڈیگو کیسے استعمال کر رہی ہے۔

انڈیگو کا کہنا تھا کہ یہ پرواز 'آخری منٹ پر فضائی حدود کی پابندیوں' کی وجہ سے تقریباً 13 گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی لوٹ آئی۔

ذرائع کے مطابق لندن سے ممبئی آنے والے انڈیگو کے ایک اور بوئنگ طیارے کو بھی اریٹیریا میں اسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اسے قاہرہ کی طرف موڑا گیا۔

انڈیگو کو پچھلے سال دسمبر میں انڈیا میں سخت تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا جب ایئرلائن کی وجہ سے ایک بڑا بحران کھڑا ہو گیا تھا اور ہزاروں فلائٹس کینسل ہوئی تھیں۔ اس بحران کی وجہ سے ایئرلائن کے سی ای او نے منگل کو اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق انڈیگو اور ایئر انڈیا نے اس معاملے پر اس کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایئر انڈیا کی پریشانیاں

ایئر انڈیا نے پیر کو کہا کہ وہ ایران جنگ کی وجہ سے انڈیا سے یورپ اور امریکہ کے روٹ پر زیادہ طلب ہونے کی وجہ سے 78 اضافی پروازیں چلائے گی۔

لیکن کچھ مقامات کے لیے اس کی پروازوں کا دورانیہ دیگر ایئرلائنز کی پروازوں سے بہت زیادہ ہے اور اسٹاپ اوور بھی کرنا پڑتا ہے جس سے ایئرانڈیا کی حریف ایئرلائنز کو اس پر سبقت حاصل ہے۔

ایئر انڈیا کی دیلی سے نیویارک کی جو پرواز ایران جنگ سے پہلے عراق اور ترکیہ کی فضائی حدود کے ذریعے 17 گھنٹوں میں منزل پر پہنچ جاتی تھی، اب اس کا دورانیہ 22 گھنٹوں تک جا پہنچا ہے اور مسافروں کو روم میں ایک اسٹاپ اوور بھی لینا پڑتا ہے۔

اسی کے مقابلے میں امیریکن ایئرلائنز کی اسی روٹ پر پرواز صرف 16 گھنٹوں میں منزل پر پہنچ گئی کیوں کہ اس نے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کی تھی۔

رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے ایئر انڈیا کا سالانہ نقصان 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ایئرانڈیا پہلے حکومت کی ملکیت تھی جسے اس نے 2022 میں ٹاٹا گروپ کو فروخت کر دیا تھا۔

انڈین ایئرلائنز کے لیے طویل دورانیے کی فلائٹس کے ساتھ ساتھ ایک مشکل تیل کی بڑھتی قیمتیں بھی ہیں جو اس کے اخراجات میں مزید اضافے کی وجہ بن رہی ہیں۔

##ایران جنگ
##انڈین ایئرلائنز
##مشکلات