
ایران میں تباہ ہونے والے امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ کو ریکسیو کرنے کا عمل انتہائی مہارت اور تقریباً مکمل درستگی سے انجام پایا۔ رات کے اندھیرے میں امریکی کمانڈو خاموشی سے ایرانی سرزمین پر اترے، سات ہزار فٹ کی چڑھائی عبور کی اور اتوار کی صبح صادق سے پہلے اپنے پھنسے ہوئے اہلکار کو نکال کر خفیہ مقام پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ لیکن پھر اچانک سب کچھ رک گیا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اسے ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تقریباً 100 اسپیشل آپریشنز اہلکاروں کو تہران کے جنوب میں دشوار گزار علاقے تک پہنچانے والے دو MC-130 طیاروں میں فنی خرابی پیدا ہو گئی جس کے باعث وہ دوبارہ پرواز کے قابل نہ رہے۔
صورتِ حال یہ بن گئی کہ جو کمانڈو دشمن کے علاقے میں پھنسے پائلٹ کو نکالنے آئے تھے وہ خود پھنسنے کے خطرے سے دوچار ہو گئے۔
اسپیشل فورسز کے کمانڈرز نے خطرناک فیصلہ کرتے ہوئے اضافی طیارے ایران بھیجنے کا حکم دیا تاکہ اہلکاروں کو مرحلہ وار نکالا جا سکے۔ تاہم اس دوران کمانڈوز کو شدید تناؤ کے عالم میں کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔
عہدے دار کا کہنا تھا کہ 'اگر کوئی لمحہ واقعی خوف ناک تھا تو وہ یہی تھا۔' انہوں نے فوری فیصلوں کو اس کامیابی کی وجہ قرار دیا۔
یہ حکمتِ عملی کامیاب رہی۔ ریسکیو ٹیم کو مرحلہ وار نکال لیا گیا جب کہ امریکی فوجیوں نے خراب ہونے والے MC-130 طیاروں اور مزید چار ہیلی کاپٹروں کو ایران کے اندر ہی تباہ کر دیا تاکہ حساس آلات دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
پینٹاگون نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔
گرائے گئے طیارے کا پائلٹ چھپا رہا، پھر رابطہ قائم کر لیا
جس امریکی اسلحہ ماہر کو بچانے کے لیے یہ آپریشن کیا گیا، وہ اس 'ایف-15 ای اسٹرائیک' ایگل لڑاکا طیارے کے دو رکنی عملے میں شامل تھے جسے ایران نے جمعے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

امریکی فضائی عملے کو دشمن کے علاقے میں گرنے کی صورت میں سروائیول، ایویژن، ریزسٹنس اینڈ اسکیپ (SERE) تیکنیک کی تربیت دی جاتی ہے۔ لیکن بہت کم ہی افراد ہی فارسی زبان جانتے ہیں جس کی وجہ سے چھپ کر رہنا اور مدد حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔
آپریشن کی تفصیلات سے واقف ایک امریکی عہدے دار کے مطابق وہ افسر جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے کرنل قرار دیا تھا، ٹخنے میں موچ آنے کے باوجود ایک پہاڑی دراڑ میں چھپ گیا۔
عہدے دار نے بتایا کہ بعد میں اس اہلکار نے امریکی فوج سے رابطہ قائم کیا اور اپنی شناخت کی تصدیق کرائی جو ایک نہایت اہم مرحلہ تھا۔ تاکہ ریسکیو ٹیم کسی جال میں نہ پھنس جائے۔
ایک سینیئر عہدے دار کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی 'سی آئی اے' نے ریسکیو آپریشن سے پہلے ایک گمراہ کن مہم چلائی جس کا مقصد تہران کو دھوکہ دینا تھا۔ اس مہم سے ایران میں یہ تاثر دیا گیا کہ امریکی افواج پہلے ہی لاپتا اہلکار کو تلاش کر چکی ہیں اور اسے منتقل کر رہی ہیں۔
تاہم اس دوران امریکی فوج نے حفاظتی اقدامات کے طور پر الیکٹرونک نظام کو جام کیا اور پائلٹ کی لوکیشن کے اردگرد اہم سڑکوں پر بم باری کی تاکہ کوئی قریب نہ آ سکے۔

پورے آپریشن کے دوران وائٹ ہاؤس، پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ غیر معمولی طور پر خاموش رہے۔ ٹرمپ اس قدر خاموش تھے کہ ایک مقامی رپورٹر یہ دیکھنے اسپتال چلا گیا کہ ٹرمپ کہیں والٹر ریڈ اسپتال میں تو نہیں۔
مشن مکمل ہونے کے بعد ٹرمپ نے کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا 'گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے اپنی تاریخ کے سب سے جرات مندانہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز میں سے ایک کو کامیابی سے انجام دیا ہے۔' انہوں نے مزید کہا کہ زخمی اہلکار کی حالت بہتر ہے اور وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔
دوسرے پائلٹ کی تلاش میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا
جمعے کے روز جب تباہ ہونے والے ایف-15 طیارے کے پائلٹ کو ریسکیو کر لیا گیا تو اس کے بعد شروع ہونے والی دوسرے پائلٹ کی تلاش کی کارروائی کے دوران ایران کی جانب سے شدید مزاحمت کا مظاہرہ کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تلاش میں شامل دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ ہوئی۔ تاہم وہ کسی طرح ایرانی فضائی حدود سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
ایک اور واقعے میں، حکام نے بتایا کہ ایک اے-10 وارتھوگ طیارہ کویت کے اوپر نشانہ بننے کے بعد تباہ ہو گیا۔ اس میں موجود پائلٹ طیارے سے نکلنے میں کامیاب رہا۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ ایرانی فوج کمزور ہو چکی ہے تاہم عسکری ماہرین کے مطابق امریکی طیاروں کو بار بار نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت خاصی اہم ہے۔
ایران کی خاتم الانبیا مشترکہ فوجی کمان نے ہفتے کے روز کہا کہ جمعے کو ایک امریکی لڑاکا طیارے کو نشانہ بنانے کے لیے ایک نیا فضائی دفاعی نظام استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اب بھی میزائل اور ڈرون حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد نسبتاً مطمئن نظر آنے والے ٹرمپ نے اتوار کو مزید سخت لہجہ اور نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے تہران کو دھمکی دی کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو تیل کی ترسیل کے لیے دوبارہ نہ کھولا تو اسے انتہائی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔






