
افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے پاکستانی فورسز کی جانب سے گزشتہ روز کنڑ میں کیے گئے فضائی حملوں پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ایک احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ کے ایکس پر جاری بیان کے مطابق پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے 'پاکستانی فورسز کی جانب سے سویلینز اور کنڑ کے وسط میں یونیورسٹی سمیت شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے پر احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔'
واضح رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی فورسز نے کنڑ صوبے میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں ایک یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک جب کہ 75 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
طالبان حکومت کے مطابق زخمی ہونے والوں میں یونیورسٹی کے 30 طلبہ سمیت بچے اور عام شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے افغان حکومت کی جانب سے یونیورسٹی اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے اور ان خبروں کو 'جھوٹ پر مبنی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان انتہائی درستگی اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتا ہے۔

منگل کو افغان وزارتِ خارجہ نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور شہریوں پر مبینہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
افغان وزارتِ خارجہ کے مطابق اسلامی امارات افغانستان پاکستان کے ان دعووں کو مسترد کرتا ہے کہ اس کی سرزمین پرتشدد واقعات کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کا جائز حق محفوظ رکھتا ہے اور پاکستانی فریق کو ایسے اقدامات سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے یاددہانی کرانا چاہتا ہے کہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔






