
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ ان کا مقصد تھا کہ ایران میں مذہبی قیادت کی حکومت کا تختہ الٹا جائے اور اسے دکھا کر اپنے ملک میں ہونے والے انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھایا جائے۔
امریکہ اور اسرائیل کا یہ اتحاد مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا تھا لیکن اب اتحادیوں کے درمیان معاملات پہلے جیسے نہیں رہے بلکہ حلیف اب حریف میں بدل رہے ہیں۔
اسرائیل میں سب سے طویل عرصے تک وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے والے نیتن یاہو اب ٹرمپ سے ٹکراؤ کے راستے پر ہیں۔ کیوں کہ ٹرمپ اب اس جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں جب کہ اسرائیل کے اہداف ابھی پورے نہیں ہوئے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ یہ معاہدہ اس کے بنیادی سیکیورٹی خدشات کو حل نہیں کرے گا۔
اسرائیلی حکومتی حلقوں میں بے چینی
امریکہ اور ایران کے معاہدے پر فی الحال تو اسرائیلی حکام عوامی سطح پر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں لیکن نجی گفتگو میں شدید تحفظات اور جھنجھلاہٹ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں کہا کہ یہ ابتدائی معاہدہ اسرائیل کے لیے تباہ کن ہے۔ اور اسرائیلی قیادت میں وزیر اعظم سے لے کر چیف آف اسٹاف تک، کوئی بھی ایسا نہیں جو اس سے اختلاف کرے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق اگلے 60 روز میں جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین کلیدی معاملات پر مذاکرات کریں گے۔ بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام پر۔ لیکن اسرائیلی حکام نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ مذاکرات کا دورانیہ ممکنہ طور پر بڑھا دیا جائے گا اور اس صورت میں اسرائیل کے ہاتھ بندھے ہوں گے کہ وہ کوئی فوجی کارروائی نہ کر سکے۔ جب کہ اس کے خدشات برقرار ہیں۔
حال ہی میں یہ رپورٹس بھی آئی تھیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان لبنان میں جنگ روکنے کے معاملے پر کئی بار تکرار اور بحث ہوئی اور نوبت تلخ کلامی تک بھی آ پہنچی۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کو 'پاگل' بھی کہا اور انہیں بیروت پر حملہ نہ کرنے کا حکم دیا۔
نیتن یاہو نے اس دن تو حملہ نہیں کیا لیکن پھر ایک ہفتے بعد پچھلے ہفتے عین اس دن بیروت کے مضافات میں بمباری کر دی جس دن ٹرمپ کو معاہدہ طے پانے کی امید تھی۔
نیتن یاہو نے کیا کہا؟
نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایک طاقت ور اور مستحکم ملک کے طور پر ابھرا ہے اور اس کی قیادت اپنے مؤقف پر مضبوطی سے کھڑی ہے۔ پیر کو ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات ان کے اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ 'وہ امریکہ کے صدر ہیں اور میں اسرائیل کا وزیرِ اعظم۔ ہم کبھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں تو کبھی معاملہ مختلف بھی ہوتا ہے۔ میں اسرائیل کے سیکیورٹی مفادات کا ذمے دار ہوں۔'
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں۔
پاکستان، جو اس معاہدے میں ثالثی کر رہا ہے، کے مطابق معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر روکنے کی بات شامل ہے۔
تاہم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوج برقرار رکھے گا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی آزادی محفوظ رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ 'ایران چاہتا تھا کہ ہم وہاں سے نکل جائیں، لیکن میں اپنے مؤقف پر قائم رہا۔'
'اسرائیل حیران رہ گیا'
مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی جب کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل آئندہ 60 دنوں کے مذاکرات میں طے کیا جائے گا۔
لیکن اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز میں جن دو اہم نکات کو امریکہ اور اسرائیل نے اپنے اہداف قرار دیا تھا، یعنی ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور خطے میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی سرپرستی ختم کرنا، وہ موجودہ مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ نہیں دکھائی دیتے۔
دو اسرائیلی عہدے داروں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ ہفتے جب ٹرمپ نے پہلی بار کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے تو اسرائیل اس پیش رفت سے حیران رہ گیا۔ ان کا اعتراف تھا کہ اسرائیل مذاکرات پر اثرانداز ہونے میں زیادہ کامیاب نہیں رہا۔
تین اسرائیلی عہدے داروں نے یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ 60 دن کا مذاکراتی وقفہ 90 دن میں تبدیل ہو جائے گا۔
اسرائیلی عوام میں بھی مایوسی
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ یہ معاہدہ نیتن یاہو کے اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہیں۔
بار-ایلان یونیورسٹی کے سیاسی تجزیہ کار جوناتھن رائن ہولڈ کے مطابق 'نیتن یاہو اس معاہدے کو اسرائیلی عوام کے سامنے کامیابی کے طور پر پیش نہیں کر سکیں گے۔'
حالیہ سروے کے مطابق صرف 41 فیصد اسرائیلی یہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اسرائیل کی سیکیورٹی کو اپنی ترجیح سمجھتے ہیں، جب کہ مارچ میں یہ شرح 64 فیصد تھی۔
اسرائیلی وزیرِ توانائی ایلی کوہن نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ اپنے جوہری یا بیلسٹک میزائل پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کی تو اسرائیل اکیلے بھی کارروائی کر سکتا ہے۔
ان کے بقول اگر ایران نے اپنے جوہری یا میزائل پروگرام دوبارہ شروع کیے تو ہم کارروائی کریں گے۔






