
انڈیا کے آبی وسائل کے وزیر نے کہا ہے کہ حکومت یہ یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل ہونے کے بعد آئندہ کچھ برسوں میں انڈیا سے ایک بوند پانی بھی پاکستان نہ پہنچ سکے۔
انڈیا کے مرکزی وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے منگل کو 'اے این آئی نیوز ایجنسی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ برسوں میں یہاں سے ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اس چیز کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی ہدایات کے مطابق مستعدی سے کام کر رہا ہے۔ وزیرِ داخلہ امیت شاہ بھی اس پر توجہ دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈیا نے گزشتہ برس پاکستان سے کشیدگی کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کے معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔ پاکستان اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان بہنے والے دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا فارمولا طے کرتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت تین دریا پاکستان کے حصے میں آتے ہیں جب کہ تین دریا انڈیا کے حصے میں ہیں۔
پاکستان کہہ چکا ہے کہ اگر اس کے حصے کے دریاؤں کے پانی کو روکنے یا اس کا بہاؤ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے 'جنگی اقدام' تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ 1960 میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ اب بھی قائم ہے اور اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔
نئی دہلی نے دریائے چناب پر دو منصوبوں کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز میں الزام عائد کیا تھا کہ انڈیا پانی کو 'ہتھیار' کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مئی میں بھارت کی سرکاری کمپنی نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے ایک مجوزہ سرنگ منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا جس کے تحت دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس کی جانب منتقل کیا جانا ہے۔
اس سے قبل جنوری میں بھارتی وزارتِ توانائی نے کہا تھا کہ دریائے چناب پر واقع سلال پاور اسٹیشن میں گاد نکالنے کا کام کیا جا رہا ہے جو انڈس واٹرز ٹریٹی (سندھ طاس معاہدہ) کے خاتمے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق انڈیا کے موجودہ ڈیموں میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ دریاؤں کا پانی مکمل طور پر روک سکے یا اس کا رخ موڑ سکے۔ البتہ وہ پانی کے بہاؤ کے اوقات کو کسی حد تک متاثر کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے پاکستان کی زراعت اور مجموعی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایسے منصوبوں کے نتائج سامنے آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کے حالیہ اقدامات نے پاکستان میں تشویش پیدا کی ہے لیکن دریاؤں کے پانی کے بہاؤ میں کسی بڑی اور فوری تبدیلی کا امکان فی الحال موجود نہیں۔






