
امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان خلیجِ فارس میں جھڑپیں ہوئی ہیں اور متحدہ عرب امارات بھی ایک بار پھر حملوں کی زد میں آیا ہے۔ یہ حملے ایک ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب پچھلے کئی روز سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ کے تین جنگی جہازوں پر حملے ہوئے ہیں جب وہ آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 'تین بہترین امریکی جنگی جہاز حملے کے باوجود انتہائی کامیابی سے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جہازوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن ایرانی حملہ آوروں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔'
تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ ٹرمپ کے بقول 'انہوں نے آج ہم سے چھیڑ چھاڑ کی، ہم نے انہیں اڑا کر رکھ دیا۔'
امریکی فوجی حکام نے 'این بی سی نیٹ ورک' کو بتایا کہ انہوں نے قشم اور بندر عباس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا۔ لیکن یہ ایک دفاعی کارروائی تھی اور اس کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کرنا نہیں ہے۔
این بی سی نیوز نے ایک ہنگامی رپورٹ میں پینٹاگون کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی جہازوں نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں کارروائی کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام امریکہ پر لگایا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کارروائی صرف اس وقت کی جب امریکی افواج نے اس کے ایک ٹینکر کو قبضے میں لینے کی کوشش کی۔
ایران کی فوجی کمان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے ایرانی آئل ٹینکر اور ایک دوسرے جہاز پر حملے کیے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں واقع قشم جزیرے اور دیگر ساحلی علاقوں میں شہری آبادیوں پر بھی فضائی حملے کیے۔ ایرانی فوج کے مطابق اس نے جوابی کارروائی میں امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
ایران میں جنگ کے انچارج خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر نے دعویٰ کیا کہ 'ایران کی مسلح افواج نے فوری طور پر اور جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز کے مشرق میں اور چابہار بندرگاہ کے جنوب میں امریکی فوجی جہازوں پر حملہ کیا، جس سے انھیں کافی نقصان پہنچا۔'
خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں نے امریکہ کو 'بھاری نقصان' پہنچایا ہے۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ اس کے کسی اثاثے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایران کے پریس ٹی وی نے بعد ازاں رپورٹ کیا کہ کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہنے کے بعد اب ایرانی جزائر اور ساحلی علاقوں میں صورتِ حال معمول پر آ گئی ہے۔
دوسری جانب انہی حملوں کے دوران متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس حملے سے متعلق فی الحال بہت کم تفصیلات دستیاب ہیں کہ امارات میں کس مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
ٹرمپ کا مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر زور
ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ہونے والی جھڑپوں کے باوجود مذاکرات اور جنگ بندی جاری رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ 'ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔'
ان حملوں سے قبل امریکہ کی جانب سے ایران کو جنگ کے خاتمے کے ایک منصوبے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جس پر تہران کی جانب سے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے سے متعلق فی الحال کسی فیصلے پر نہیں پہنچے ہیں۔
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے امریکہ کے اس مطالبے پر آمادگی دکھائی ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اس کا کوئی چانس نہیں اور وہ بھی یہ بات جانتے ہیں اور اس پر رضا مند بھی ہو چکے ہیں۔ اب دیکھیں کہ وہ اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔'
جب امریکی صدر سے سوال ہوا کہ ان کے خیال میں معاہدہ کب تک ہونے کی توقع ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ 'شاید نہ بھی ہو اور کسی بھی دن ہو بھی سکتا ہے۔' ان کے بقول 'ایرانی مجھے سے زیادہ معاہدے کے خواہش مند ہیں۔'
واضح رہے کہ اس جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کو امریکہ میں اپنے مخالفین کے ساتھ ساتھ حامیوں کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ کیوں کہ وہ ماضی میں جنگوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ بھی کرتے آئے ہیں۔
تاہم امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد جہاں دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں، وہیں امریکی عوام بھی اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں 40 فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ فی گیلن پیٹرول کی قیمت 1.20 ڈالر سے 4 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔






