کیا ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کا قانونی حق رکھتا ہے؟

14:2416/04/2026, Perşembe
جنرل16/04/2026, Perşembe
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر کے وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے ٹول ٹیکس لگانے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن کیا ایران قانونی طور پر ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے اور بین الاقوامی قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ آئیے اس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ایک تنگ سمندری راستہ ہے جو خلیجِ عمان کو خلیجِ فارس سے جوڑتا ہے۔ یہ آبنائے صرف 167 کلو میٹر طویل ہے لیکن اس کی چوڑائی کہیں زیادہ اور کہیں بہت کم ہے۔ سب سے تنگ جگہ پر اس کی چوڑائی اتنی کم ہے کہ جہازوں کے گزرنے کے لیے صرف دو میل کے چینلز ہیں جن کے درمیان دو میل کا فاصلہ بفرزون کے طور پر رکھا گیا ہے۔

اس کم چوڑائی کی وجہ سے ہی ایران نے اسے مؤثر طریقے سے کنٹرول کر رکھا ہے اور وہ مطالبہ کر رہا ہے کہ یہاں سے گزرنے والے جہاز اسے ٹول ٹیکس ادا کریں۔

اس آبی گزرگاہ پر کون سے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے؟

اقوامِ متحدہ کا 'لا آف سی' یعنی سمندروں سے متعلق قانون ہے جو 1982 میں بنایا گیا تھا اور 1994 سے اس کا اطلاق شروع ہوا۔

اس کا آرٹیکل 38 بحری جہازوں کو دنیا بھر میں 100 سے زیادہ آبناؤں سے بلا روک ٹوک گزرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ اس میں آبنائے ہرمز بھی شامل ہے۔

اس بین الاقوامی معاہدے کے تحت آبنائے سے متصل ملک اپنے 'علاقائی سمندر' میں، جو سرحد سے 12 ناٹیکل میل تک ہوتا ہے، آمد و رفت کو منظم کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم اسے 'بے ضرر گزرگاہ یا انوسنٹ پیسج کی اجازت دینا لازمی ہے۔

بے ضرر گزرگاہ سے مراد ایسی آمدورفت ہے جو اس ملک کے امن، نظم و ضبط اور سلامتی کے لیے خطرہ نہ ہو۔ اس گزرگاہ کے ذریعے فوجی کارروائیاں، سنگین آلودگی، جاسوسی اور ماہی گیری کی اجازت نہیں ہوتی۔

لا آف سی یا سمندوں کے بین الاقوامی قوانین کو تقریباً 170 ممالک اور یورپی یونین اس معاہدے کی توثیق کر چکے ہیں لیکن تاہم ایران اور امریکہ نے اسے اب تک باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

اسی لیے یہ مسئلہ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا یہ بین الاقوامی قوانین تمام ملکوں پر لاگو ہوں گے یا صرف ان پر جو انہیں مانتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ عمومی طور پر بین الاقوامی ہی تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ ملک جنہوں نے اس کی توثیق نہیں کی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ اس کے پابند نہیں۔ کیونکہ وہ مستقل طور پر ان قوانین پر اعتراض اٹھاتے رہے ہیں۔

ایران کا بھی کہنا ہے کہ اس نے بھی کئی اعتراضات اٹھائے ہیں اور اس قانون کا اطلاق اس پر نہیں ہوتا۔ لیکن امریکہ ایران کے اس اختیار کو تسلیم نہیں کرتا کہ وہ آبناؤں سے گزرنے پر ٹیکس عائد کرے۔

ٹول ٹیکس کو کیسے چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

لا آف سی کے نفاذ کے لیے کوئی باضابطہ طریقۂ کار موجود نہیں ہے۔ اس معاہدے کے تحت قائم جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں واقع 'انٹرنیشنل ٹریبیونل فور لا آف سی' اور نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالتِ انصاف فیصلے تو دے سکتے ہیں لیکن انہیں نافذ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

البتہ ممالک اور کمپنیاں ٹول ٹیکس کے خلاف دیگر اقدامات کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق کوئی ملک یا ممالک کا اتحاد اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کی کوشش کر سکتا ہے جب کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ٹول کے خلاف قرارداد بھی منظور کر سکتی ہے۔

دوسری جانب کمپنیاں اپنی ترسیلات کو آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستوں پر منتقل کر سکتی ہیں اور بعض نے ایسا کرنا شروع بھی کر دیا ہے۔

مزید یہ کہ کچھ ممالک ایران کی حکومت کو فائدہ پہنچانے والے مالی لین دین پر پابندیاں سخت کر سکتے ہیں، مثلاً اُن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو ٹول ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ ہوں تاکہ ایران کو دباؤ میں لا کر ٹول ختم کرایا جا سکے۔

##آبنائے ہرمز
##ایران
##امریکہ
##لا آف سی