
امریکہ اور ایران نے ابتدائی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ تاہم اس مفاہمتی یادداشت سے متعلق بیشتر تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتپ روز فرانس میں جی سیون اجلاس میں شرکت کے لیے آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'معاہدے پر دونوں فریقین نے دستخط کر دیے ہیں۔ اب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس دستخط کی باضابطہ تقریب میں شرکت کے لیے جمعے کو جینیوا جائیں گے۔'
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط امن کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ تاہم پائیدار امن کے لیے حتمی معاہدہ ہونا ابھی باقی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سی این این کو بتایا ہے کہ مفاہمتی یادداشت صرف ایک ڈیڑھ صفحے پر مبنی ہے اور یہ ابھی ابتدائی معاہدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں ایران پر سے پابندیاں ہٹانے سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق معاہدے کی تفصیلات آئندہ دو روز میں منظر عام پر لائی جائیں گی۔
اب تک امریکی و ایرانی حکام اور مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی جانب سے جو کچھ ابتدائی تفصیلات منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
معاہدہ کن مراحل میں نافذ ہوگا اور کب کیا ہوگا؟
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے تمام فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
تمام فریقوں کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جائیں گے۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ دستخط کے بعد مفاہمتی یادداشت کو منظرِ عام پر لایا جائے گا۔
ایران اور امریکہ دونوں نے کہا ہے کہ جیسے ہی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔
دونوں فریقوں نے کہا ہے کہ مزید پیچیدہ اور متنازع معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور ایران پر امریکی پابندیوں سے متعلق مذاکرات، اگلے 60 دنوں کے دوران کیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز جمعے کو دوبارہ کھول دی جائے گی اور انہوں نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز 'تمام تجارتی جہازوں' کے لیے کھول دی جائے گی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو ایران اور عمان کی باہمی ہم آہنگی سے منظم کیا جائے گا۔
ایران کا جوہری پروگرام
دونوں فریقوں نے کہا ہے کہ ایران اس بات پر متفق ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار بنائے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا۔ ایک ایسا وعدہ جو تہران کئی دہائیوں سے دہراتا آ رہا ہے۔
سینئر ایرانی عہدے دار کے مطابق حتمی معاہدے تک ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو منجمد (فریز) کر دے گا۔ یعنی نہ مزید یورینیم افزودہ کرے گا اور نہ ہی جوہری تنصیبات میں توسیع کرے گا۔
اسی عہدے دار نے کہا کہ امریکہ اس بات پر آمادہ ہو گیا ہے کہ مستقبل کے جامع معاہدے کے تحت ایران اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ایران کے اندر ہی کم افزودہ کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران کے جوہری مواد کے ذخیرے کو فوری طور پر حاصل کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور امریکہ اسے 'جب حالات مکمل طور پر پرسکون ہو جائیں گے' تب حاصل کرے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے تحت ایران کے لیے سخت اور مضبوط نگرانی کا نظام موجود ہوگا۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی حتمی معاہدے کا جائزہ لے کر اسے کانگریس کی منظوری لینا ہوگی۔
پابندیاں اور مالی اثرات
سینئر ایرانی عہدے دار نے کہا کہ امریکہ اس بات پر متفق ہو گیا ہے کہ حتمی معاہدہ ہونے تک ایران پر کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
ان کے مطابق امریکہ ایک مخصوص مدت کے لیے ایران کی تیل برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے گا جب کہ حتمی معاہدے کے بعد تمام امریکی اور اقوامِ متحدہ کی پابندیاں ایک طے شدہ شیڈول کے تحت ختم کر دی جائیں گی۔
ایرانی عہدے دار نے کہا کہ امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے جس میں براہِ راست نقد ادائیگیاں، علاقائی ممالک کے درمیان مالی تعاون اور کریڈٹ لائنز شامل ہوں گی۔
ان کے مطابق امریکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیرِ نو اور ترقی کے لیے ایک منصوبہ تیار کرے گا جس پر آئندہ 60 دنوں کے اندر تہران کے ساتھ مذاکرات اور اتفاقِ رائے کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو نقد رقم فراہم نہیں کی جائے گی تاہم پابندیاں ختم کیے جانے کا امکان موجود ہے۔
لبنان کا معاملہ
شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے میں لبنان بھی شامل ہوگا۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ نے کہا کہ پیر کی شب سے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں مستقل طور پر بند کر دی جائیں گی۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے اور اس فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں اپنے زیرِ قبضہ سیکیورٹی زونز میں موجود رہے گی اور وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے یہ بات ٹرمپ کو واضح طور پر بتا دی ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے اعلان سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پورے خطے میں، بشمول لبنان، امن قائم کریں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ لبنان پر مزید اسرائیلی حملے نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہی ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر مزید حملے ہونے چاہئیں۔






