
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے مؤقف اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز ایران پر حملہ خلیجی ملکوں کی درخواست پر ملتوی کرنے کے بعد اب انہوں نے پھر ایران پر حملوں کا اشارہ دے دیا ہے۔
منگل کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دو سے تین دن میں معاہدہ نہیں ہوتا تو ایران پر حملے دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کے بہت قریب تھے اور حملے سے صرف ایک گھنٹہ پہلے اسے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم ان کے بقول شاید دوبارہ حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ واشنگٹن 'بہت جلد اس جنگ کو ختم کرنے جا رہا ہے۔'
ان کے بقول 'وہ (ایرانی) معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں، وہ اس سب سے تھک چکے ہیں۔ ان کے ذہن میں اب بھی جوہری ہتھیار ہیں لیکن ہم انہیں وہ حاصل کرنے نہیں دیں گے۔'
جنگ دوبارہ شروع کی تو امریکہ کو بہت سے 'سرپرائز' ملیں گے: عباس عراقچی کا ٹرمپ کو جواب
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کے جواب میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں لکھا کہ 'یقین رکھیں کہ میدانِ جنگ میں واپسی کی صورت میں آپ کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔'
انہوں نے کہا کہ 'ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے چند ماہ بعد امریکی کانگریس نے اربوں ڈالر مالیت کے درجنوں طیاروں کی تباہی کا اعتراف کیا ہے جس سے باضابطہ طور پر تصدیق ہو گئی ہے کہ ہماری طاقت ور مسلح افواج دنیا کی پہلی طاقت تھی جس نے جدید اور مشہور F-35 لڑاکا طیارے کو مار گرایا۔'
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ 'ہم نے جو اس جنگ سے سیکھا ہے اس کے ساتھ، یقین رکھیں کہ میدانِ جنگ میں واپسی اور بھی بہت سی حیرتیں ساتھ لائے گی۔'
دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع نہیں کرنا چاہتے، مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے: امریکی نائب صدر
دوسری جانب ٹرمپ کے بیان کے برخلاف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع نہیں کرنا چاہتے۔
وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران وینس نے کہا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ کافی پیش رفت ہو چکی ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ ایرانی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔'
وینس کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کی تعداد محدود رہے اور اسی لیے ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔'
امریکی نائب صدر نے کہا کہ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ ایران اس کے ساتھ ایسے عمل میں شامل ہو جو یقینی بنائے کہ آنے والے برسوں میں تہران دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔






