متحدہ عرب امارات کی 'اوپیک' سے علیحدگی کیا ٹرمپ کی جیت ہے اور اس کے اثرات کیا ہوں گے؟

12:3329/04/2026, Çarşamba
جنرل29/04/2026, Çarşamba
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

متحدہ عرب امارات نے منگل کو تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم 'اوپیک' اور 'اوپیک پلس' سے علیحدگی کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاق یکم مئی سے ہوگا۔

متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے سے نہ صرف اوپیک کا تیل کی عالمی پیداوار پر کنٹرول کمزور ہوگا بلکہ امارات اور سعودی عرب کے تعلقات میں دوریاں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

سعودی عرب کو اوپیک میں شامل ملکوں اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں میں نمایاں مقام اور لیڈر کی حیثیت حاصل ہے جب کہ متحدہ عرب امارات تیل پیدا کرنے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے۔

اوپیک میں شامل ملکوں کا تیل کی پیداوار کے لیے ایک کوٹا مختص ہے تاہم اوپیک سے علیحدگی کے بعد اب امارات اس پابندی سے بھی آزاد ہوگا اور وہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ توانائی سہیل محمد المزروئی نے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ ملک کی توانائی کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امارات نے اس مسئلے پر کسی اور ملک سے مشاورت نہیں کی۔ وزیر توانائی کے بقول 'یہ پالیسی سے متعلق فیصلہ تھا جو پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی پالیسیوں اور صورت حال کے باریک بینی سے جائزے کے بعد لیا گیا ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو مزید توانائی کی ضرورت ہو گی اور متحدہ عرب امارات اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سامنے آ سکے گا۔

اماراتی وزیرِ توانائی کے بقول انہیں اس فیصلے کے تیل کی عالمی منڈی پر اثرات کی توقع نہیں ہے کیوں کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔

کیا امارات کا یہ فیصلہ امریکی صدر ٹرمپ کی فتح ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں تیل پیدا کرنے والے ملکوں کی تنظیم پر الزام لگایا تھا کہ وہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے 'باقی پوری دنیا کو لوٹ رہی ہے۔'

ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اوپیک کے ممبران کا دفاع کر رہا ہے جب کہ وہ 'تیل کی زیادہ قیمتیں لے کر اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔'

متحدہ عرب امارات کی اوپیک سے علیحدگی ایک طرح سے ٹرمپ کی فتح کو ظاہر کرتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امارات کا یہ اقدام صارفین اور معیشتوں کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے متحدہ عرب امارات کے لیے زیادہ مارکیٹ شیئر کے دروازے کھلیں گے اور جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال معمول پر آئے گی تو امارات اس فیصلے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک سے علیحدہ رہ کر متحدہ عرب امارات زیادہ تیل پیدا کر سکتا ہے جو اسے فائدہ پہنچائے گا۔ اور اس سے سعودی عرب کے کردار کے برقرار رہنے پر بھی سوالات کھڑے ہوں گے۔

امارات اور سعودی عرب کے درمیان گہری ہوتی خلیج

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، ماضی کے حلیف اب حریف میں بدل گئے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان تیل کی پالیسی اور علاقائی جیوپالیٹیکس سمیت کئی معاملات پر کھلے اختلافات ہیں جس سے دونوں کے درمیان خلیج گہری ہو رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کو خطے میں ایک کاروباری مرکز اور معاشی حب کا مقام حاصل ہے اور وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اہم ترین اتحادیوں میں بھی شامل ہے۔ امارات نے جارحانہ خارجہ پالیسی اپنائی ہے اور اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک پھیلا دیا ہے۔

ایران جنگ کے دوران تہران کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد امارات نے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ان اولین ملکوں میں شامل تھا جنہوں نے ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے 2020 میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات حال ہی میں یمن کے معاملے پر بھی عیاں ہوئے تھے۔ دونوں ماضی میں یمن میں ایک اتحادی کے طور پر جنگ میں شامل ہوئے تھے تاہم اب مخالف فریقین کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

#متحدہ عرب امارات
#اوپیک
#ٹرمپ
#سعودی عرب
#تیل کی پیداوار