'ہم تم جیسوں کے ساتھ کبھی معاہدہ نہیں کریں گے': ایرانی فوج نے ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوؤں کو مسترد کر دیا، حملے جاری

10:1225/03/2026, Çarşamba
جنرل25/03/2026, Çarşamba
ویب ڈیسک
اسرائیلی و امریکی حملوں کے بعد تہران کے ایک علاقے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
اسرائیلی و امریکی حملوں کے بعد تہران کے ایک علاقے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔

اسرائیل اور ایران نے بدھ کو بھی ایک دوسرے پر مزید حملے کیے ہیں جب کہ ایرانی فوج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی فوج نے کہا ہے کہ امریکہ اپنے آپ سے مذاکرات کر رہا ہے۔

ایرانی فوج کی جانب سے مذاکرات کی خبروں کی تردید ایسے وقت کی گئی ہے جب اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے جنگ بندی کے لیے 15 نکاتی شرائط ایران کو بھجوائی ہیں۔

ایرانی فوج کی مشترکہ کمانڈ کے مرکزی ترجمان ابراھیم ذوالفقاری نے سرکاری ٹی وی پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'کیا آپ کے اندر کی کشمکش اس سطح پر پہنچ چکی ہے کہ آپ (ٹرمپ) اپنے آپ سے مذاکرات کر رہے ہیں۔'

ترجمان نے مزید کہا کہ 'ہم جیسے لوگ تم جیسے لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ اور ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم جیسا کوئی بھی تم جیسوں کے ساتھ معاہدہ نہیں کرے گا۔ نہ ابھی، نہ مستقبل میں۔'

ایرانی قیادت پہلے بھی کہہ چکی ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔ کیوں کہ امریکہ پچھلے دو برسوں میں دو بار اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران ان کے ملک پر حملہ کر چکا ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران میں جنگ کے خاتمے کے لیے 'صحیح لوگوں' کے ساتھ 'مذاکرات' کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عوام شدت سے معاہدے کے منتظر ہیں۔
اسرائیل پر داغا گیا ایک ایرانی میزائل فلسطینی علاقوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے

امریکہ کی جانب سے 15 نکاتی منصوبہ بھجوانے کی اطلاعات

ایران کی جانب سے یہ سخت بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یہ اطلاعات بھی رپورٹ ہو رہی ہیں کہ امریکہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط ایران کو بھجوائی ہیں۔

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' نے منگل کو رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کو 15 نکاتی منصوبہ بھجوایا ہے۔ اسرائیلی چینل 12 نے بھی تین ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اس 15 نکاتی منصوبے پر مذاکرات کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی چاہتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اسے بھی ایک باخبر ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کا منصوبہ بھجوایا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

اسرائیلی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے، حزب اللہ اور حوثی باغیوں جیسے پراکسی گروہوں کی سہولت کاری روکنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط شامل ہیں۔

تاہم مذاکرات کی خبروں کے باوجود امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں مزید ہزاروں فوجی بھیجے جانے کی توقع ہے۔ امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سے زیادہ فوجی موجود ہیں اور یہ ان کی تعداد میں ممکنہ طور پر نیا اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ امریکہ ایران میں زمینی کارروائی شروع کر سکتا ہے جس سے جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔

پاکستان کی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے منگل کو پیغام دیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے شہباز شریف کے اس بیان کو اپنے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کیا۔

گزشتہ روز یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ امریکہ اور ایران کے ممکنہ مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔ تاہم سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
مذاکرات کی چہ مگوئیوں کے دوران حملے جاری ہیں۔

اسرائیل اور ایران کے حملے جاری

اسرائیلی فورسز نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ اس نے تہران میں انفراسٹرکچر پر مزید حملے کیے ہیں۔ ایران کی ایک نیم سرکاری نیوز ایجنسی ایس این این کے مطابق حملوں میں رہائشی علاقے نشانہ بنے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے مطابق ایران نے بھی اسرائیل کے شہر تل ابیب اور کیریات شمونہ میں حملے کیے ہیں جب کہ کویت، اردن اور بحرین میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

کویت اور سعودی عرب نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈرون حملوں کی نئی لہر کو ناکام بنا دیا ہے۔ کویتی حکام کے مطابق ایک حملے میں کویت کے ایئرپورٹ کا فیول ٹینک نشانہ بنا جس سے آگ بھڑک اٹھی مگر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

##ایران
##اسرائیل
##امریکہ
##مذاکرات