
ترکیہ نے کہا ہے کہ نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کو اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک اور ایرانی بیلسٹک میزائل کو مار گرایا ہے۔ انقرہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ ایسے خطرات کے خلاف ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔
یہ گزشتہ چند روز کے دوران ترکیہ کی حدود کے قریب گرایا گیا دوسرا ایرانی میزائل ہے۔ ترکیہ ایران کا پڑوسی بھی ہے اور نیٹو اتحاد میں دوسری بڑی فوج رکھتا ہے۔
ترکیہ نے پہلے میزائل کے گرائے جانے کے بعد تہران کو خبردار کیا تھا کہ اس پر دوبارہ حملہ نہ ہو۔ تاہم نیٹو کے ترجمان نے پیر کو تصدیق کی ہے کہ اتحاد نے ترکیہ کی طرف بڑھنے والے میزائل کو مار گرایا ہے اور وہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار اور ثابت قدم ہے۔
پچھلا میزائل ترکیہ کی فضائی حدود سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا تھا تاہم یہ میزائل ترکیہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد گرایا گیا۔ میزائل کا ملبہ ایسے علاقے میں گرا ہے جہاں ایک اہم ایئر بیس اور ریڈار بیس موجود ہے جو نیٹو اور امریکہ کے زیرِ استعمال ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ میزائل کا ہدف کیا تھا۔ ترکیہ کی انکرلک بیس میں امریکی ایئرفورس تعینات ہے جب کہ نیٹو کا ریڈار بیس بھی موجود ہے۔ میزائل کا ملبہ ان دونوں اڈوں کے درمیانی علاقے میں گرا ہے۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملوں کے لیے اس کا فوجی اڈہ استعمال نہیں کیا۔
ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ 'ہم ایک بار پھر زور دے رہے ہیں کہ ہم اپنے ملک، علاقے یا فضائی حدود کی طرف بڑھنے والے کسی بھی خطرے کے خلاف بلا جھجھک اور ہر ضروری فیصلہ کن اقدام کریں گے۔'
وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بیان میں وزارت نے مزید کہا کہ 'ہم یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ترکیہ کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لینا سب کے مفاد میں ہوگا۔'
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان بھی کہہ چکے ہیں کہ انقرہ نے میزائل واقعے کے بعد ایران کو ضروری تنیبہ جاری کر دی ہے۔ کابینہ کے اجلاس میں صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ 'ایران غلط اور اشتعال انگیز اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔'
صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ نے چھ ایف 16 لڑاکا طیارے شمالی قبرص میں تعینات کر دیے ہیں اور انقرہ اضافی اقدامات جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کا مقصد ایران جنگ کے شعلوں سے اپنے ملک کو محفوظ رکھنا ہے۔
ایران کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم اس سے قبل تہران بارہا یہ کہتا آیا ہے کہ وہ علاقائی ملکوں سے جنگ نہیں کر رہا اور ترکیہ کو نشانہ نہیں بنا رہا۔
واضح رہے کہ نیٹو کے اتحاد میں شامل اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہو یا اسے خطرہ ہو تو اتحاد کے باقی تمام ملک اس کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔ تاہم فی الحال یہ واضح نہیں کہ کیا ترکیہ نیٹو ارکان کی مدد طلب کرے گا یا نہیں۔
اس سے قبل ترکیہ یہ کہہ چکا ہے کہ اس کا نیٹو کے آرٹیکل چار کو نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ آرٹیکل چار اتحادیوں کو مشاورت کا کہتا ہے جس کے بعد اگلا مرحلہ آرٹیکل پانچ کا نفاذ ہوتا ہے جو ارکان کو پابند کرتا ہے کہ جس اتحادی پر حملہ ہوا ہے اس کا تحفظ کیا جائے۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ انقرہ تمام فریقین تک اپنی وارننگ پہنچا رہا ہے بشمول ایران کے کہ علاقائی سلامتی اور شہریوں کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔






