امریکی کسٹمز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرفس کی وصولی روکنے کا اعلان کر دیا

11:5923/02/2026, lundi
جنرل23/02/2026, lundi
ویب ڈیسک
امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس لگانے کا اختیار کانگریس کا ہے، صدر کا نہیں۔ (فائل فوٹو)
امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس لگانے کا اختیار کانگریس کا ہے، صدر کا نہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کی وصولی منگل سے بند کر دے گی۔

امریکی سپریم کورٹ نے جمعے کو اپنے فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ملکوں پر ٹیرف عائد کرنے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ یہ وہی ٹیرفس ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کے تحت گزشتہ سال اپریل میں متعدد ملکوں پر عائد کیے تھے جن میں کئی ملکوں پر 50 فی صد اور اس سے بھی زیادہ ٹیرف عائد کیے گئے تھے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے اس فیصلے کو غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز قرار دیے جانے کے بعد محصولات وصول کرنے والے ادارے کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن ایجنسی نے منگل سے آئی ای ای پی اے کے تحت ٹیرف کی وصولی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے ردعمل میں اپنے ایک اور اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یکساں 15 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے اور اس ٹیرف کی وصولی منگل سے ہی شروع کی جائے گی۔

ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے ججوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں بے وقوف، اشاروں پر چلنے والے اور 'اپنے خاندانوں کے لیے شرمندگی کی وجہ' بننے والے قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کو وہ ٹیرفس ری فنڈ بھی کرنا پڑ سکتے ہیں جو اس نے اب تک وصول کیے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کے بغیر وصول شدہ ٹیرف واپس نہیں کریں گے۔

امریکہ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت اب تک 133 ارب ڈالرز سے زیادہ کے محصولات وصول کیے ہیں جو اس فیصلے کے بعد واپس دینا پڑ سکتے ہیں اور اس رقم کی واپسی کے مطالبات شروع بھی ہو گئے ہیں۔

##امریکہ
##ٹرمپ
##سپریم کورٹ