
ایران کے ایک سفارت کار نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ ایک ایسے جوہری معاہدے کی تلاش میں آگے بڑھ رہا ہے جو دونوں فریقین کو معاشی فوائد پہنچائے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے معاشی سفارت کاری حامد غنبری نے کہا ہے کہ معاہدے کی پائیداری کے لیے یہ لازمی ہے کہ امریکہ کو بھی ان شعبوں میں برابر فائدہ پہنچے جو فوری اور بھاری معاشی فائدہ دیتے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئل اور گیس کے شعبے میں باہمی دلچسپی، مشترکہ مفادات، کان کنی میں سرمایہ کاری اور طیارے خریدنے کے معاملات امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کا حصہ ہیں۔
ایرانی سفارت کار کا مزید کہنا تھا کہ 2015 میں ایران نے عالمی قوتوں کے ساتھ جو جوہری معاہدہ کیا تھا، اس نے امریکہ کے معاشی مفادات کا تحفظ نہیں تھا۔
یاد رہے کہ اس جوہری معاہدے کے تحت ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی تھی جب کہ ایران نے جواب میں اپنے جوہری پروگرام پر روک لگائی تھی۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ملک کو اس جوہری معاہدے سے 2018 میں علیحدہ کر لیا تھا اور ایران پر دوبارہ سخت معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
مذاکرات کا دوسرا دور
ایرانی سفارت کار کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات ہو رہے ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں دونوں فریقین نے عمان کی ثالثی میں تہران کے نیوکلیئر پروگرام کے تنازع کا حل تلاش کرنے اور امریکہ کے ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے مذاکرات بحال کیے تھے۔ مذاکرات کا پہلا دور ہو چکا جب کہ اب چند روز بعد دوسرا دور شروع ہوگا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اسے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکی وفد منگل کو ایرانی حکام سے جنیوا میں ملاقات کرے گا۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر بھی اس وفد کا حصہ ہوں گے۔ رائٹرز کے مطابق اتوار کو ایک سینیئر ایرانی عہدے دار نے اس ملاقات کی تصدیق بھی کر دی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی تفصیلات بتائے بغیر یہ ضرور کہا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اہم ملاقاتوں کے لیے سفر کر رہے ہیں اور ہم دیکھیں گے کہ ان ملاقاتوں کے کیا نتائج نکلتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی جنیوا کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جہاں وہ امریکی حکام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کے جوہری معاملات کے نگران ادارے 'آئی اے ای اے' کے سربراہ اور دیگر حکام سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
امریکہ کا دوسرا بحری بیڑا بھی مشرقِ وسطیٰ کے سفر پر
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے دوسرا طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ کر دیا ہے اور مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کسی بھی طویل فوجی کارروائی کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کو ترجیح دیں گے، تاہم وہ یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ممکن نہ ہو۔
روبیو کا کہنا تھا کہ 'ایران کے ساتھ کوئی بھی کامیاب معاہدہ نہیں کر سکا ہے لیکن ہم ایک کوشش کر رہے ہیں۔'
کیا ایران جوہری معاہدے پر راضی ہے؟
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ ماجد تخت راوانچی نے عندیہ دیا ہے کہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام پر سمجھوتا کرنے کے لیے تیار ہے اگر بدلے میں اس پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔
نائب وزیرِ خارجہ نے برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کو ایک انٹرویو میں کہا کہ گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے، وہ یہ ثابت کریں کہ وہ واقعی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔
ماجد تخت راوانچی نے ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ کے بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران اپنے افزودہ یورینیم کو تلف کر کے مقدار میں کمی کر سکتا ہے اگر اس پر سے پابندیاں ختم کی جائیں۔
دوسری جانب امریکہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھا رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی وائٹ ہاؤس میں ملاقات ہوئی جس میں یہ طے پایا کہ امریکہ ایرانی تیل کی چائنہ کو برآمدات کم کرنے کے لیے کام کرے گا۔
چائنہ ایران کا 80 فیصد تیل خریدتا ہے۔ اگر چائنہ کو تیل خریدنے سے روک دیا جائے تو ایران کی تیل کی برآمدات میں بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔






