
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے انڈین بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دینے کے بدلے اپنے تین ٹینکر واپس مانگ لیے ہیں جو فروری سے انڈیا کے قبضے میں ہیں۔ رائٹرز کے مطابق تین باخبر ذرائع نے اس معاملے کی تصدیق کی ہے۔
انڈین حکام نے ایران سے منسلک تین بحری ٹینکروں کو قبضے میں لے رکھا ہے۔ انڈیا نے یہ الزام لگایا تھا کہ یہ ٹینکر اپنی شناخت چھپا کر یا اس میں ترمیم کر کے غیر قانونی طور پر سمندر میں ایک جہاز سے دوسرے میں سامان منتقل کرنے میں ملوث تھے۔
انڈین حکام نے ایسفالٹ اسٹار، الجفزیہ اور اسٹیلر روبی نامی جہاز قبضے میں لیے تھے۔ اسٹیلر روبی پر ایرانی پرچم موجود تھا جب کہ باقی دو پر نگاراگوا اور مالی کے پرچم تھے۔
انڈین کوسٹ گارڈز نے 15 فروری کو پولیس میں شکایت درج کرائی تھی کہ ایفالٹ اسٹار نامی جہاز تیل کی اسمگلنگ میں ملوث تھا جس سے الجفزیہ پر بھاری خام تیل اور اسٹیلر روبی پر 'بچومین' منتقل کیا جا رہا تھا۔ یہ تینوں بحری جہاز اب ممبئی میں لنگر انداز ہیں۔
جس وقت ان جہازوں کو انڈیا نے قبضے میں لیا تو ایران کے سرکاری ٹی وی نے ملکی آئل کمپنی کے حوالے سے کہا تھا کہ تینوں بحری جہازوں سے کمپنی کا کوئی تعلق نہیں تھی۔
رائٹرز کے مطابق ایک ایرانی عہدے دار نے اسے بتایا کہ تہران نے انڈیا سے کچھ ادویات اور طبی آلات کی سپلائی بھی مانگی ہے۔ عہدے دار کا کہنا تھا کہ ایران کے نئی دہلی میں متعین سفیر نے انڈین وزارتِ خارجہ کے حکام سے پیر کو ملاقات میں ان معاملات پر بات کی ہے۔
ایرانی عہدے دار نے معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ، نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے اور ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے یا سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا ہے۔
انڈین حکام کے مطابق ایران نے حال ہی میں دو بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جو انڈیا کے لیے گھریلو استعمال کی گیس (ایل پی جی) لا رہے تھے۔ ان میں سے ایک ٹینکر پیر کو انڈیا پہنچ چکا ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پیر کو انڈین جہازوں کو راستہ دینے پر مذاکرات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حالیہ پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کی تاریخ کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے نیوز بریفنگ کے دوران مزید کہا کہ کسی بھی چیز کا تبادلہ نہیں ہوا۔
انڈیا نے پیر کو کہا ہے کہ کم از کم 22 انڈین پرچم بردار بحری جہاز اور 611 افراد کا انڈین عملہ خلیج میں موجود ہے۔
انڈین ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ بحری جہازوں پر ایل پی جی گیس لوڈ ہے اور نئی دہلی انہیں جلد از جلد آبنائے ہرمز سے گزار کر انڈیا لانا چاہتا ہے تاکہ ملک میں گیس کا بحران کم ہو سکے۔ انڈیا کی 90 فیصد ایل پی جی گیس خلیجی ملکوں سے درآمد کی جاتی ہے۔
جگوندر سنگھ برار، جس پر امریکہ الزام لگاتا ہے کہ وہ بحری جہازوں کا ایک بیڑہ چلا رہا ہے جو ایرانی تیل لے جاتے ہیں، نے کہا ہے کہ وہ قبضے میں لیے گئے ان تینوں جہازوں کا کنسلٹنٹ ہے اور ان جہازوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔
جگوندر سنگھ نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ہم 'بچومین' لے جا رہے تھے اور اس میں کچھ غیر قانونی نہیں ہے۔ ان کے بقول میرے جہاز 40 دن سے انڈیا میں پھنسے ہوئے ہیں اور مجھے نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے میں کسی بھی مذاکرات کے معاملے سے لاعلم ہیں۔






