
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے اور بحری جہازوں کو اس آبی راستے سے بحفاظت گزارنے کے لیے اتحادیوں سے مدد کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب جاپان اور آسٹریلیا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نیوی بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جو ملک خلیجی ملکوں کے تیل پر انحصار کرتے ہیں، ان کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے چائنہ سے بھی پوچھا کہ کیا آپ آنا پسند کریں گے؟ اور ہم دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔'
ٹرمپ نے اپنے سرکاری جہاز 'ایئرفورس ون' میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ 'میں ان ملکوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنے علاقے کی حفاظت کریں کیوں کہ یہ ان کا علاقہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ توانائی حاصل کرتے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ چائنہ کو بھی مدد کرنی چاہیے کیوں کہ وہ اپنا 90 فیصد تیل ان راستوں سے حاصل کرتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے ہم منصبوں سے کہا ہے کہ اگر وہ مدد نہیں کرتے تو ہم یاد رکھِیں گے۔'
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد تیل کی قیمتیں مزید بڑھی ہیں اور برینٹ کروڈ ایک فیصد اضافے کے بعد 104 ڈالر کی سطح سے اوپر پہنچ گیا ہے۔
نیٹو اتحادیوں کو 'بہت برے' مستقبل کی دھمکی
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں پر دباؤ ڈالتے ہوئے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے میں مدد دینے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کی کہ اگر نیٹو کے اراکین امریکہ کی مدد کو نہ آئے تو نیٹو کا مستقبل 'بہت برا' ہوگا۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی سے گفتگو میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے جب کہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کی درخواست کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اب تک مؤثر طریقے سے بند رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور صرف ان جہازوں کو گزرنے دیا ہے جو ایران سے پیشگی اجازت لے کر گزرے ہیں۔
جاپان اور آسٹریلیا کی کنارہ کشی
جاپان کی وزیرِ اعظم سنائی تاکائچی نے پیر کو کہا ہے کہ ان کا ملک جنگوں سے دور رکھنے والے اپنے آئین کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں جہازوں کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

امریکہ کے ایک اور اہم اتحادی آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نہ تو اس سے کہا گیا اور نہ ہی وہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اپنی بحری افواج بھیجے گا۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم کی کابینہ کے ایک رکن کیتھرین کنگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ یہ کتنا اہم ہے لیکن نہ ہم سے اس بارے میں پوچھا گیا اور نہ ہی ہم اس میں کوئی حصہ لے رہے ہیں۔'






