حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کون تھے؟

08:4931/07/2024, الأربعاء
جنرل31/07/2024, الأربعاء
ایجنسی
حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں آج اسرائیلی حملے میں قتل کردیا گیا
حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں آج اسرائیلی حملے میں قتل کردیا گیا

فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور مزاحمتی گروپ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو آج ایران کے دارلحکومت تہران میں ان کی رہائش گاہ پر ایک اسرائیلی حملے میں قتل کردیا گیا۔


حماس نے اسماعیل ہنیہ کی موت کی تصدیق کی ہے کہ جبکہ ایرانی میڈیا نے اسماعیل ہنیہ کے قتل سے متعلق تفصیلات شئیر نہیں کیں البتہ کہا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کررہے ہیں۔


اسرائیلی وزرا کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں آیا تاہم اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے کابینہ کے وزراء کو کسی بھی قسم کا تبصرہ نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔


اسماعیل ہنیہ غزہ شہر کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے اور 1987 میں حماس گروپ کا حصہ بنے، 1988 میں انہیں اسرائیل نے 6 ماہ قید میں رکھا۔ 1989 میں دوبارہ گرفتاری کے بعد 1992 میں اسماعیل ہانیہ کو لبنان ڈی پورٹ کیا گیا جس کے اگلے سال اوسلو معاہدے کے بعد اسماعیل ہانیہ واپس غزہ آگئے۔


1997 میں وہ حماس کے روحانی رہنما شیخ احمد یاسین کے پرسنل سیکرٹری بن گئے۔ اسماعیل ہانیہ حماس کے پولیٹیکل سربراہ اور پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین تھے۔ 2006 میں فلسطین کے الیکشن میں حماس کی اکثریت کے بعد اسماعیل ہانیہ فلسطینی اتھارٹی کے دسویں وزیراعظم بنے، لیکن یہ حکومت زیادہ دیر نہ چل سکی البتہ غزہ میں حماس کی حکمرانی برقرار رہی اور اسماعیل ہانیہ ہی اس کے سربراہ ہیں۔


2017 میں انہیں خالد مشعال کی جگہ حماس کا سیاسی سربراہ مقرر کیا گیا جس کے بعد کئی بار قتل کی کوششوں اور ملک بدر کیے جانے بعد انہوں نے غزہ شہر چھوڑ دیا تھا اور 2023 سے قطر میں قیام پذیر تھے۔ ان کے والدین کو 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کے قصبے اشکلون کے قریب اپنا گھر چھوڑنا پڑا تھا۔


رواں سال 25 جون کو رفح میں اسرائیلی فضائی حملے میں اسماعیل ہنیہ کی بہن اور دیگر رشتے دار ہلاک ہوگئے تھے۔ غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں حماس سربراہ کے 3 بیٹوں اور پوتے پوتیوں سمیت کئی رشتہ دار ہلاک ہوچکے ہیں۔


غزہ جنگ بندی مذاکرات


7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے اچانک حملے میں کم از کم 1200 افراد ہلاک اور 200 کے قریب لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ جس کے بعد اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کررہا ہے، ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس اور اس کے رہنماوٴں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے بعد سے اب تک وہاں 39 ہزار 400 فلسطینی ہلاک اور 90 ہزار 996 زخمی ہوچکے ہیں۔


اس کے بعد سے اسماعیل ہنیہ امریکا اور دیگر ممالک کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ غزہ جنگ بندی پر مذاکرات کرنے والے اہم شخصیت تھے۔


غزہ جنگ بندی معاہدے پر رضامندی بھی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے مئی میں کہا تھا کہ حماس ثالثوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے ’اب بھی راضی‘ ہے۔ تاہم انہوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ کسی بھی معاہدے کی صورت میں اسرائیل کو غزہ میں جنگ مکمل طور پر ختم کرنی ہوگی۔


جس کے جواب میں اسرائیل نے کہا کہ حماس کے مطالبات ’ناقابل قبول‘ ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور پھر یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔


حال ہی میں جولائی کے شروع میں اسماعیل ہنیہ قطر اور مصر کے ثالثوں کے ساتھ رابطے میں تھے تاکہ جنگ کے خاتمے کے بارے میں خیالات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے، جس سے کچھ امید پیدا ہوئی کہ دونوں فریق ایک فریم ورک معاہدے کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔


سی این این کے سیاسی اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار بارک راوید نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کی موت کا ان مذاکرات پر گہرا اثر پڑے گا۔


پچھلے سال سات اکتوبر سے غزہ پر ہونے والی جنگ کے دوران اسماعیل ہنیہ نے دیگر عالمی رہنماؤں اور حکام سے ملاقاتیں جاری رکھیں۔ اس جنگ کے دوران ان کے تین بیٹوں سمیت کئی رشتہ دار بھی ہلاک ہوچکے تھے۔ تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ ان کے رشتہ داروں کو نشانہ بناکر جاری جنگ بندی مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔


انہوں نے کہا تھا کہ ’جو بھی یہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات کے دوران میرے بچوں کو نشانہ بنا کر حماس اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا تو ایسا نہیں ہوگا۔‘




#Hamas
#Palestine
#Gaza
#Israel-Gaza war
#Israel