
پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا اور اس کے پاسپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کو اسرائیل کے سفر کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکام اُن خبروں کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی اخبار اسرائیل ہایوم نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ پاکستان سے 10 رکنی وفد، جس میں صحافی اور انفلوئنسرز شامل تھے، نے 7 دن اسرائیل میں گزارے۔
یاد رہے کہ پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم نہیں کرتا اور اس کے پاسپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کو اسرائیل کے سفر کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان شفق علی خان نے اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ’جہاں تک پاکستان کے مؤقف کا تعلق ہے، وہ بالکل واضح ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسرائیل کو تسلیم کرنے، فلسطین کے مسئلے یا عرب-اسرائیل تنازع پر پاکستان کے مؤقف میں کسی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
پاکستانی وفد کے مبینہ دورۂ اسرائیل سے متعلق سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا دفتر خارجہ یا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں اور جب صورتحال واضح ہوگی، تو ہم اس پر تبصرہ کر سکیں گے۔‘
ترجمان نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ وہاں (اسرائیل) کون موجود تھا اور وہ کونسے پاسپورٹ کے ذریعے گئے تھے، شاید ان کے پاس دوہری شہریت ہو۔‘
اسرائیل ہایوم اخبار کی رپورٹ کے مطابق دس پاکستانی صحافیوں اور محققین، جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں، پچھلے ہفتے اسرائیل پہنچے تھے۔ ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ انہیں اسرائیل کے سفر کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’اس کے باوجود انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شراکہ نامی تنظیم کی دعوت قبول کی، جو اسرائیل اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کے لیے کام کرتی ہے۔‘
’وفد کے اراکین کی حفاظت کے پیش نظر ان کے پاسپورٹ پر اسرائیلی مہر (سٹیمپ) نہیں لگائی گئی اور ان کے دورے کی خبر اس وقت تک شائع نہیں کی گئی جب تک وہ بحفاظت اپنے ملک واپس نہیں پہنچ گئے۔‘






