
امریکہ اور ایران کے صدور نے جنگ کے خاتمے اور مذاکرات کے فریم ورک کے لیے طے پانے والے ابتدائی معاہدے پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں جب کہ دونوں فریقین کی جانب سے اس مفاہمتی یادداشت کا متن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جاری جی سیون اجلاس میں بدھ کو اسمعاہدے پر دستخط کیے۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کی تو وہ اس پر دوبارہ حملے بھی شروع کر سکتے ہیں۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ہم ان پر انتہائی شدید بمباری کریں گے۔ ان کے بقول 'میں نہیں چاہتا کہ وہ خلاف ورزی کریں، میں چاہتا ہوں کہ وہ اس معاہدے کا احترام کریں۔'
ٹرمپ نے ایرانیوں کو 'اسمارٹ لوگ' بھی کہا اور امید ظاہر کی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
تاہم امریکی صدر اپنے ایک ایسے مؤقف سے پیچھے بھی ہٹ گئے جسے ایک موقع پر انہوں ایران پر حملہ کرنے کی بنیاد بتایا تھا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ تہران کے لیے 'غیر منصفانہ' ہوگا کہ وہ بیلسٹک میزائل نہ رکھے۔ اس سے قبل ٹرمپ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی باتیں کرتے آئے تھے۔
جنگ سے جو حاصل کرنا تھا، مذاکرات میں اس سے زیادہ لے لیا: ایران
دوسری جانب ایران کی طرف سے ٹرمپ کی ان حالیہ دھمکیوں پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایران کی جانب سے تصاویر جاری کی گئی ہیں جن میں ایرانی صدر کو معاہدے پر دستخط کرتے دکھایا گیا ہے۔
ایران کے مذاکراتی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے اس معاہدے سے متعلق سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے فوجی کارروائی کے ذریعے جو کچھ حاصل کرنا چاہا تھا، مذاکرات کے ذریعے اس سے کئی گنا زیادہ حاصل کر لیا۔ دونوں کا آپس میں کوئی موازنہ ہی نہیں تھا۔'
انہوں نے اس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی جس کے تحت ایران کے منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی بحال کیے جائیں گے۔
اس 14 نکاتی معاہدے میں پیچیدہ معاملات پر مذاکرات اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 دنوں کا ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے جس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ جب کہ اس دوران لبنان سمیت ہر محاذ پر جنگ بندی ہوگی۔ اس کے علاوہ امریکہ ایران کی ناکہ بندی ختم اور ایران آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولے گا۔
ٹرمپ اور مسعود پزشکیان دونوں نے معاہدے کے انگریزی اور فارسی متن پر ڈیجیٹل دستخط کیے ہیں۔ دستخط کی باضابطہ تقریب جمعے کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جینیوا میں پاکستان کی میزبانی میں منعقد کی جائے گی۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بدھ کو ڈیجیٹل دستخط کے ساتھ ہی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔






