امریکہ اور ایران معاہدے کے 14 نکات

10:4418/06/2026, جمعرات
جنرل18/06/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
امریکی صدر معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے
امریکی صدر معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے

امریکہ اور ایران کی جانب سے بدھ کو ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد اس کے مسودے کا متن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ مفاہمتی یادداشت میں 14 نکات ہیں جو بدھ کو ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے صحافیوں کو پڑھ کر سنائے۔

ان نکات میں حتمی مذاکرات کا فریم ورک، دورانیہ اور دیگر معاملات پر اتفاقِ رائے کیا گیا ہے۔ معاہدے پر 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران' کا ٹائٹل درج ہے۔

1. امریکہ، ایران اور موجودہ جنگ میں ان کے اتحادی، اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ اور اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ آج کے بعد ایک دوسرے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کریں گے، ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں گے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنائیں گے۔ حتمی معاہدہ اس شق کی دیگر دفعات کے ساتھ تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر جنگ کے مستقل خاتمے کی توثیق کرے گا۔

2. امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

3. امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے اور اسے حاصل کریں گے۔ تاہم اس مدت میں دونوں کی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے۔

4. اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی اور کسی بھی قسم کی رکاوٹوں یا مداخلتوں کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گا۔ 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اس مدت کے دوران ایران اتنے ہی جہازوں کی آمدورفت بحال کرے گا جتنے جنگ سے پہلے گزرتے تھے۔ امریکہ حتمی معاہدے کے 30 دن بعد اپنی افواج کو ایران کے قرب و جوار سے ہٹانے کا عہد کرتا ہے۔

5. اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران اپنی بھرپور کوششوں کے ذریعے 60 دن تک بلا معاوضہ تجارتی جہازوں کی خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس تک محفوظ آمدورفت کے انتظامات کرے گا۔ تجارتی جہازوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع ہو گی اور تکنیکی و عسکری رکاوٹوں کے خاتمے اور ایران کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی کے پیش نظر 30 دن کے اندر مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔ ایران عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کی آئندہ انتظامیہ اور سمندری خدمات کے تعین کے لیے مذاکرات کرے گا اور اس سلسلے میں خلیج فارس کے دیگر ساحلی ممالک سے بھی بین الاقوامی قانون اور آبنائے ہرمز سے متصل ریاستوں کے خودمختار حقوق کے مطابق مشاورت کرے گا۔

6. امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیرِ نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب امریکی ڈالر پر مشتمل ایک حتمی اور باہمی طور پر متفقہ منصوبہ تیار کرنے کا عہد کرتا ہے۔ اس منصوبے کے نفاذ کا طریقہ کار 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے حصے کے طور پر طے کیا جائے گا۔ متعلقہ مالی لین دین کے لیے درکار تمام لائسنس، استثنیٰ اور اجازت نامے امریکہ جاری کرے گا۔

7. امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تمام اقسام کی پابندیاں ختم کرنے کا عہد کرتا ہے جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، یعنی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور امریکہ کی تمام یکطرفہ، بنیادی اور ثانوی پابندیاں شامل ہیں جو حتمی معاہدے کے تحت باہمی طور پر طے شدہ شیڈول کے مطابق ختم کی جائیں گی۔ ایران اور امریکہ پابندیوں کے خاتمے کی اس اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان معاملات پر فوری مذاکرات کے ذریعے باہمی اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے ارادے کا اظہار کرتے ہیں۔

8. ایران دوبارہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار حاصل کرے گا اور نہ ہی تیار کرے گا۔امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ جوہری مواد کے ذخائر کے مستقبل کے بارے میں ایک ایسے طریقہ کار کے تحت فیصلہ کیا جائے گا جس پر باہمی اتفاق ہو اور جو شق نمبر 7 میں مذکور شیڈول کے مطابق ہو۔ جب کہ کم از کم طریقۂ کار کے طور پر افزودہ مواد کو ایران کے اندر ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں کم افزودہ درجے پر لایا جائے گا۔ دونوں فریق ایران کی افزودگی اور اس کی جوہری ضروریات سے متعلق دیگر باہمی متفقہ امور پر بھی حتمی معاہدے کے تحت ایک اطمینان بخش فریم ورک کی بنیاد پر بات چیت کریں گے۔ حتمی معاہدہ اس شق کی دفعات کی توثیق کرے گا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران مذکورہ جوہری معاملات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر فوری مذاکرات کے ذریعے باہمی اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے ارادے کا اظہار کرتے ہیں۔

9. حتمی معاہدے تک امریکہ اور ایران موجودہ صورت حال برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا جب کہ امریکہ کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی افواج تعینات نہیں کرے گا۔

10. امریکہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوری بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک یہ عہد کرتا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ ایرانی خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور ان سے متعلقہ مصنوعات کی برآمد کے لیے استثنیٰ جاری کرے گا اور ان سے متعلق تمام خدمات بشمول بینکاری لین دین، انشورنس، نقل و حمل وغیرہ کی اجازت دے گا۔

11. امریکہ ایران کے منجمد یا پابندیوں کی زد میں موجود فنڈز اور اثاثوں کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنانے کا عہد کرتا ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کے نفاذ کے بعد امریکہ اور ایران مذاکرات کے دوران ان فنڈز کے اجرا کے طریقہ کار پر باہمی اتفاق کریں گے۔ یہ فنڈز خواہ اصل اکاؤنٹس میں رہیں یا منتقل کیے جائیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے مرکزی بینک کی جانب سے نامزد کسی بھی حتمی مستفید ہونے والے فریق کو ادائیگی کے لیے مکمل طور پر قابلِ استعمال ہوں گے۔ امریکہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری لائسنس اور اجازت نامے جاری کرے گا۔

12. امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت کے کامیاب نفاذ اور آئندہ حتمی معاہدے کی پابندیوں کی نگرانی کے لیے ایک انتظامی طریقہ کار قائم کیا جائے گا۔

13. اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، اور اس کی شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 کے نفاذ کے آغاز اور ان اقدامات کے مسلسل نفاذ سے مشروط امریکہ اور ایران صرف دیگر شقوں سے متعلق حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع کریں گے۔

14. حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی جائے گی جو دونوں ملکوں کو اس پر عمل درآمد کا پابند بنائے گی۔

#امریکہ ایران معاہدہ
#مفاہمتی یادداشت
#ایران
#امریکہ