
حماس اور اسرائیل نے 16 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے تحت آج حماس نے 4 اسرائیلی خواتین فوجیوں کو رہا کیا اور بدلے میں اسرائیل نے اپنی جیلوں سے 200 فلسطینی قیدیوں کو رہا کردیا۔
سولہ جنوری کو ثالثی ممالک امریکہ، قطر اور مصر کے ذریعے حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں پچھلے پندرہ مہینوں سے جاری جنگ پر سیز فائر کا معاہدہ طے پایا تھا۔
جنگ بندی کا پہلا مرحلہ انیس جنوری سے شروع ہوا تھا۔ پہلے دن حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل نے نوے فلسطینیوں کو رہا کیا تھا۔
آج حماس نے تین اسرائیلی خواتین فوجیوں کو رہا کیا اور انہیں غزہ کے فلسطین اسکوائر پر ریڈ کراس حکام کے حوالے کیا۔ بدلے میں اسرائیل نے اپنی جیلوں سے 200 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔
اسرائیلی خواتین فوجیوں کی رہائی سے قبل حماس اور اسلامی جہاد کے بہت سے فائٹرز غزہ چوک میں جمع ہوئے جہاں فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد بھی جمع تھی۔ حماس کے سیکڑوں ارکان کے ساتھ فلسطینی اسلامی جہاد سمیت دیگر فلسطینی گروپ بھی وہاں پر موجود تھے۔
رہائی سے قبل ریڈ کراس کے نمائندوں اور حماس کے ایک فائٹر کو دستاویزات پر دستخط کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
حماس نے چار اسرائیلی خواتین فوجیوں کی شناخت کرینہ ایریف، ڈینییلا گلبوا، ناما لیوی اور لیری الباگ کے نام سے کی ہے۔ وردیوں میں ملبوس فوجیوں نے رہائی کے دوران ہاتھ لہرایا۔
بعد ازاں ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ انہیں غزہ سے رہا ہونے والے فوجی مل گئے ہیں اور کہا کہ ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’چاروں واپس آنے والے یرغمالیوں کو فی الحال اسرائیل ڈیفنس فورس کے خصوصی دستوں اور آئی ایس اے کے ایجنٹس کے ذریعے اسرائیلی علاقے میں واپس لے جایا جا رہا ہے، جہاں ان کا ابتدائی طبی معائنہ کیا جائے گا۔‘
اس کے علاوہ جن 200 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا ان میں سے 114 قیدی ریسٹ بینک کے شہر رام اللہ پہنچ چکے ہیں۔70 قیدیوں کو مصر منتقل کیا گیا۔ 16 قیدی غزہ کے خان یونس پہنچے ہیں۔
غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نیٹزارم کوریڈور سے نکل جائے گی۔ اس کے علاوہ ساوٴتھ غزہ میں رفح بارڈر کراسنگ کھول دیا جائے گا تاکہ مزید انسانی امداد غزہ پہنچایا جا سکے۔












