
سولہ جنوری کو حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز معاہدے کی منظوری ہوئی تھی اور انیس جنوری کو معاہدے پر عمل شروع ہوا تھا
19 جنوری سے شروع ہونے والے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت آج صبح ہزاروں فلسطینی شہریوں کی نارتھ غزہ کی طرف واپسی شروع ہوگئی ہے۔
خبر رساں ادارے انادولو کی رپورٹ کے مطابق صبح 7 بجے کے قریب ہزاروں لوگوں کو نارتھ غزہ کی طرف پیدل جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ لوگ خوشی سے نعرے لگا رہے ہیں اور اپنے گھروں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔
فلسطینی جو ایک سال سے زیادہ وقت تک ٹینٹس اور اسکولوں میں پناہ لیے ہوئے تھے، وہ اپنے گھروں کی طرف واپس جانے کے لیے کئی مہینوں سے انتظار کررہے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ نارتھ غزہ میں بہت سے گھروں کو جزوی نقصان یا مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔
یاد رہے کہ سولہ جنوری کو حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز معاہدے کی منظوری ہوئی تھی اور انیس جنوری کو معاہدے پر عمل شروع ہوا تھا جس کے تحت حماس 33 یرغمالیوں کو آزاد کرے گا بدلے میں تقریباً 2 ہزار فلسطینیوں کو اسرائیل کی جیلوں سے رہا کیا جائے گا۔ اب تک حماس نے سات یرغمالیوں کو آزاد کیا ہے، جن میں چار خاتون فوجی شامل ہیں اور بدلے میں 300 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو آزاد کیا ہے۔
معاہدے کا دوسرے مرحلے پر ابھی تک بات چیت نہیں کی گئی۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ باقی 60 کے قریب یرغمالیوں کو تب تک آزاد نہیں کرے گا جب تک اسرائیل جنگ ختم نہیں کرتا۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ پر جنگ تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک وہ حماس کو مکمل طور پر ختم نہیں کردیتا۔
اس جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت ہوا تھا جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل کے تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے اور حماس نے 250 لوگوں کو اغوا کیا۔ اس وقت تقریباً 90 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں اور اسرائیل کا ماننا ہے کہ ان میں سے تقریباً ایک تہائی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔






