
چائنہ نے امریکی اشیا پر جوابی اضافہ ٹیکس (ٹیرف) لگا دیا۔ جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
چائنہ کی جانب سے یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کیونکہ ہفتے کو امریکہ نے بھی چائنہ سمیت میکسیکو اور کینیڈا کی مصنوعات پر نئے ٹیکس لگائے تھے۔
اس اعلان کے چند منٹ بعد ہی چائنہ کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا کہ وہ امریکی کوئلے اور ایل این جی پر 15 فیصد، جبکہ خام تیل، زرعی آلات اور کچھ گاڑیوں پر 10 فیصد ٹیکس لگائے گا۔ چینی وزارت کے مطابق یہ نئے ٹیرف 10 فروری سے نافذ ہوں گے۔
چین نے یہ بھی اعلان کیا کہ گوگل کی مالک کمپنی، الفابیٹ انک، کے خلاف اینٹی مونوپولی (اجاداری) تحقیقات شروع کررہا ہے۔ اس کے علاوہ چائنہ نے دو امریکی کمپنیوں ’پی وی ایچ کارپ‘ (جو کیلون کلین جیسے برانڈز کی مالک ہے) اور ’الومینا‘ (ایک بایوٹیکنالوجی کمپنی) کو ’غیر معتبر اداروں‘ کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ چین ان کمپنیوں پر پابندیاں لگا سکتا ہے یا ان کے ساتھ کاروباری تعلقات محدود کر سکتا ہے۔
اس کےعلاوہ چائنہ کی وزارت تجارت اور کسٹمز ایڈمنسٹریشن نے اعلان کیا کہ وہ ٹنٹالم، ٹیلیوریم، روتھینیم، مولیبڈینم اور روتھینیم (دھاتوں) سے متعلق اشیا کی ایکسپورٹ پر پابندیاں لگا رہا ہے۔ چائنہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ’قومی سلامتی کے مفادات کے تحفظ‘ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
چائنہ دنیا میں ان نایاب معدنیات کا سب سے بڑا سپلائر ہے، جو صاف توانائی (کلین انرجی) کی منتقلی کے لیے بہت اہم سمجھی جاتی ہیں۔ چائنہ اِن معدنیات کی ایکسپورٹ محدود کرکے دیگر ممالک، خاص طور پر امریکا، پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

پیر کے روز ٹرمپ نے آخری لمحے میں میکسیکو اور کینیڈا پر 25 فیصد ٹیکس لگانے کی دھمکی کو کچھ وقت کے لیے واپس لے لیا تھا۔ اس کے بدلے میں دونوں ممالک نے سرحدی سیکیورٹی اور جرائم پر قابو پانے سے متعلق دعوے کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت یہ فیصلے 30 دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے ہیں، تاکہ دونوں ممالک ان مسائل پر مزید بات چیت کر سکیں۔
لیکن چائنہ کے لیے امریکہ نے ایسی کوئی نرمی نہیں دکھائی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ اس ہفتے کے آخر تک چینی صدر شی جن پنگ سے بات نہیں کریں گے۔
2018 میں اپنے پہلے دور حکومت کے دوران ٹرمپ نے چائنہ کے ساتھ دو سالہ تجارتی جنگ شروع کی تھی۔ اس تجارتی جنگ میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر سینکڑوں اربوں ڈالرز کے ٹیکس عائد کیے، جس سے عالمی سپلائی چینز متاثر ہوئیں اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا۔
معروف اقتصادی تحقیقاتی ادارہ آکسفورڈ اکنامکس نے ایک رپورٹ میں کہا کہ ’تجارتی جنگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے مزید ٹیکس لگنے کا امکان زیادہ ہے‘۔ ادارے نے پیش گوئی کی کہ آئندہ دنوں میں چائنہ کی معیشت کم ترقی کرے گی۔
کینیڈا اور میکسیکو پر لگائے ٹیکس 30 دن کے لیے موٴخر
کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو اور میکسیکو کی صدر کلاڈیا شائن باؤم نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کی درخواست پر سرحدی سیکیورٹی میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ امگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کی کوشش کی جا سکے۔ اس معاہدے کے تحت منگل کو نافذ ہونے والے 25 فیصد ٹیکس 30 دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔
کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ اپنی سرحد پر نئی ٹیکنالوجی اور عملے کی تعیناتی کا فیصلہ کیا اور منظم جرائم، فینٹینائل کی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
میکسیکو نے اپنی شمالی سرحد پر 10 ہزار نیشنل گارڈ کے ارکان تعینات کرنے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ غیر قانونی ہجرت اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکا جا سکے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’صدر کے طور پر میری ذمہ داری ہے کہ میں تمام امریکیوں کی حفاظت کو یقینی بناؤں اور میں یہی کر رہا ہوں۔‘









